کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 660
’’زادالمعاد‘‘ (۱/۲۳)،[1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۷/۹۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۳) ۹۲: وہ کام جو بعض لوگ عرفہ کے دن پچھلے پہر جامع مساجد میں یا شہر کے باہر کسی جگہ اجتماع کا قصد کرتے ہیں اور وہ عرفہ والوں سے مشابہت کرتے ہوئے بلند آواز سے دعائیں کرتے ہیں، ذکر کرتے ہیں اور خطبے و اشعار پڑھتے ہیں: ’’سنن البیہقی‘‘ (۵/۱۱۸)، عن الحکم وحماد وابراہیم، ’’الإقتضاء‘‘ (۱۴۹)، ’’منیۃ المصلی‘‘ للحلبی (۵۷۳)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۸/۹۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۴)۔ ۶: مزدلفہ کی بدعات ۹۳: عرفہ سے مزدلفہ لوٹتے وقت تیز تیز چلنا: ’’زاد المعاد‘‘ (۱/۳۳۷۔۳۳۸)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۸/۹۳)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۵)۔ ۹۴: مزدلفہ میں رات گزارنے کے لیے غسل کرنا: ’’مجموعۃ شیخ الاسلام‘‘ (۲/۲۸۰)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۹/۹۴)، ’’المناسک‘‘
[1] اس بدعت کی اصل ایک موضوع روایت ہے جس کی طرف ابن القیم نے ’’زاد المعاد‘‘ (۱/۲۳) میں ذکر کیا ہے، انھوں نے کہا: ’’باطل ہے اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اصل نہیں‘‘ اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے جسے علامہ لکھنوی نے مگر علی القاری سے ’’الأجوبۃ الفاضلۃ‘‘ (ص۳۷۔ طبع حلب) میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا: ’’رہا وہ جسے بعض محدثین نے اس حدیث کی اسناد میں ذکر کیا کہ وہ ضعیف ہے، تو اس کی صحت کی تقدیر پر مقصود مضر نہیں، کیونکہ ضعیف روایت فضائل اعمال میں تمام علماء کے نزدیک معتبر ہے۔‘‘ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے صرف اس کی تضعیف کی صراحت کی ہو، حالانکہ محقق ابن القیم کا اس کے بطلان پر حکم ہے اور یہ فی الواقع اس نحوست پر بہت سی مثالوں میں سے ہے جو فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا بعض لوگوں کا موقف ہے حالانکہ اس مذہب و موقف کی تفسیر میں ان کا بہت سا اختلاف ہے، جیسا کہ آپ اسے تفصیل کے ساتھ ’’الأجوبۃ الفاضلۃ‘‘ میں پائیں گے، بسا اوقات حدیث اس کے مانند باطل ہوتی ہے اور بعض اسے کہہ دیتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے تو دوسرا آتا ہے، تو وہ کہتا ہے: فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جائے گا اور وہ اس کے شدید ضعف سے محفوظ ہونے کے حوالے سے کوئی تحقیق نہیں کرتے، جو اس پر عمل کرنے کے لیے اس کی شرائط میں سے ہے! جبکہ ضعف مطلق ضعف شدید کے منافی نہیں، بلکہ نہ وضع کے، کیونکہ وہ دونوں ضعیف کی اقسام میں سے ہیں، جیسا کہ وہ مصطلح میں طے شدہ ہے۔ پھر کاش مجھے معلوم ہوتا اس حدیث کا ضعیف حدیث پر عمل سے کیا تعلق ہے، اس کا محل اس ضمن میں ہے جس میں انسان کو ترک و فعل کا اختیار ہوتا ہے، جمعہ کے دن عرفہ کا وقوف آجانا اس طرح نہیں ہے! یہ اور حدیث باطل، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کی نص کو آپ میری کتاب ’’سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ‘‘ رقم (۲۰۷) میں پائیں گے اور اس کے ساتھ ان علماء کا ذکر پائیں گے جنھوں نے ابن القیم رحمہ اللہ کے اس حدیث کو باطل قرار دینے پر ان سے موافقت کی ہے۔ تنبیہ: شیخ علی القاری کا یہ قول: ’’ضعیف حدیث فضائل اعمال میں تمام علماء کے نزدیک معتبر ہے۔‘‘ صحیح نہیں، اس بارے میں اختلاف معروف ہے، آپ اسے ’’الأجوبۃ الفاصلۃ‘‘ میں پائیں گے، اگرچہ اس مسئلہ میں وہ قول لکھا ہوا نہیں۔ (منہ).