کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 659
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۵/۸۵)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۷)۔
۸۶: عرفہ میں خطیب کے اپنے خطبے سے فارغ ہونے سے پہلے ظہر و عصر کے لیے اذان: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۸)۔
۸۷: امام کا عرفہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوکر مکہ والوں کے لیے یوں کہنا: اپنی نماز پوری کرلو ہم تو مسافر لوگ ہیں: [2]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم (۱۲۶/۸۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۹)۔
۸۸: عرفہ میں ظہر و عصر کے درمیان نفل پڑھنا: [3]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۶/۸۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۹۰)۔
۸۹: عرفہ کے لیے کسی خاص ذکر یا کسی خاص دعا کی تعیین، جیسا کہ خضر علیہ السلام کی دعا جسے اس نے ’’الاحیاء‘‘ میں نقل کیا ہے اور اس کے شروع میں ہے: ’’یامن لا یشغلہ شأن عن شأن، ولا سمع عن سمع…‘‘ اور اس کے علاوہ دعائیں، ان میں سے بعض تو چھ صفحات سے بھی زیادہ ہیں: [4]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۶/۸۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۱)۔
۹۰: بعض کا غروب آفتاب سے پہلے عرفہ سے روانہ ہوجانا:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۷/۹۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۔۹۲)۔
۹۱: عام لوگوں کی زبان پر جو مشہور ہے کہ جمعہ کے دن عرفہ کا وقوف بہترّ (۷۲) حجوں کے برابر ہے!
[1] سنت یہ ہے کہ خطبہ کے بعد اذان شروع کی جائے، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(ص۷۳) کا فقرہ (۶۰۔۶۱) دیکھیں۔ (منہ).
[2] یہ احناف کی کئی کتب میں آیا ہے کہ عرفہ میں امام کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ جب وہ مسافر ہو، ان میں سے ’’تحفۃ الفقہاء‘‘ (۱/۲/۸۷۶) ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنے ’’مجموعہ‘‘ (۲/۳۷۸) میں بیان کیا: ’’مکہ والے اور مکہ والوں کے علاوہ قصر نماز پڑھیں گے، اسی طرح وہ عرفہ، مزدلفہ اور منی میں نماز جمع کریں گے، جیسا کہ مکہ والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عرفہ، مزدلفہ اور منیٰ میں کیا کرتے تھے، اسی طرح وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ میں سے کسی کو حکم دیا نہ آپ کے خلفاء نے کہ وہ نماز پوری پڑھیں اور نہ ہی انھوں نے انھیں عرفہ، مزدلفہ اور منی میں کہا: اپنی نماز پوری پڑھ لو، ہم تو مسافر لوگ ہیں، جس نے اسے ان سے بیان کیا اس نے غلطی کی…’‘(منہ).
[3] ’’شرح الہدایۃ‘‘ میں اسے بیان کیا کہ وہ مکروہ ہے، یہ اس کا معنی ہے کہ وہ بدعت ہے۔ (منہ).
[4] شیخ الاسلام نے اپنے ’’مجموع‘‘ (۲/۳۸۰) میں بیان کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے لیے کسی دعا کا تعین کیا نہ کسی ذکر کا، بلکہ آدمی شرعی دعاؤں میں سے جو چاہے پڑھے، اسی طرح وہ اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ پڑھتا رہے اور اللہ کا ذکر کرتا رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہوجائے۔‘‘
میں کہتا ہوں: اس پر مزید یہ کہ اس کے لیے مسنون ہے کہ وہ تلبیہ بھی پکارتا رہے۔ دیکھیں: ’’التعلیق‘‘ رقم:۶۴)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ ص ۷۳۔ (منہ).