کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 658
اور اس کے آخر میں اضافہ کرنا: ’’وَعَلَیْنَا مَعَہُمْ‘‘ سو مرتبہ: [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۴/۷۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۱)۔ ۸۰: عرفات پر سکوت اور ترک دعا: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۴/۸۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۲)۔ ۸۱: عرفات میں جبل رحمت پر چڑھنا: ’’مجموعۃ ابن تیمیۃ‘‘ (۲/۳۸۰)، ’’الإختیارات العلمیۃ‘‘ لابن تیمیۃ (۶۹)[3] ’’المدخل‘‘ (۴/۲۲۷)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۴/۸۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۳)۔ ۸۲: جبل رحمت پر موجود قبے میں داخل ہونا، لوگ اسے قبلہ آدم کا نام دیتے ہیں اور اس میں نماز پڑھنا اور بیت اللہ کے طواف کی طرح اس کا طواف کرنا: ’’مجموعۃ ابن تیمیۃ‘‘ (۲/۳۸۰)، ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ (۱۴۹)، ’’المدخل‘‘ (۴/۲۳۷)، ’’حجۃ النبی‘‘ (۱۲۵/۸۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۴)۔ ۸۳: یہ اعتقاد کہ عرفہ کے دن پچھلے پہر اللہ تعالیٰ خاکی رنگ کے ایک اونٹ پر آتا ہے، وہ سواروں سے مصافحہ کرتا ہے اور پیدل چلنے والوں سے معانقہ کرتا ہے: ’’مجموعۃ ابن تیمۃ‘‘ (۱/۲۷۹)[4]، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۵/۸۳)، ’’المناسک‘‘ ۵۵/۸۵۔ ۸۴: عرفہ میں امام کا دو خطبے دینا اور ان دونوں کے درمیان بیٹھ کر انہیں علیحدہ کرنا جیسا کہ جمعہ میں ہے: [5] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۵/۸۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۶)۔ ۸۵: خطبہ سے پہلے ظہر اور عصر کی نماز: [6]
[1] اس بارے میں وارد حدیث کی اسناد صحیح نہیں، بیہقی نے اسے ’’الشعب‘‘ (۳/رقم۴۰۷۴) میں روایت کیا اور فرمایا: ’’یہ متن غریب ہے، اس کی اسناد میں کوئی ایسا نہیں جسے وضع کی طرف منسوب کیا گیا ہو، جیسا کہ اسے ’’اللآلی‘‘ (۱۲۶۱) میں نقل کیا اور ابن ہمام نے اسے ’’الفتح‘‘ (۲/۱۶۷) میں لفظ ’’لیس‘‘ (نہیں) کے بغیر ذکر کیا۔ (منہ). [2] ’’المدخل‘‘ (۴/۲۲۹)، دیکھیں۔ (منہ). [3] اس میں بیان کیا: ’’جبل رحمت پر چڑھنا مشروع نہیں اس پر اجماع ہے۔ (منہ). [4] انھوں نے ذکر کیا کہ ان میں سے بعض نے اس حدیث کو روایت کیا اور پھر کہا: ’’یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بڑا جھوٹ ہے اور اس کا قائل اللہ پر سب سے بڑا جھوٹ بولنے والا ہے۔‘‘ (منہ). [5] ’’ہدایہ‘‘ میں بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ ابن الہمام نے ’’الفتح‘‘ (۲/۱۶۳) میں اس کا تعاقب کیا ہے، انھوں نے کہا: ’’اس بارے میں مجھے کوئی حدیث یاد نہیں۔‘‘. [6] اس بارے میں جو حدیث ہے وہ شاذ اور منکر ہے، کیونکہ وہ اس کے مخالف ہے جو فقرہ (۵۸۔۶۲) (حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم (ص۷۰۔۷۳) میں ہے، دیکھیں : ’’نصب الرایۃ‘‘ (۳/۵۹۔۶۰)۔ (منہ).