کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 657
’’الباعث علی إنکار البدع‘‘ (۶۹۔۷۰)[1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۳/۷۳)،’’المناسک‘‘ (۵۴/۷۵)۔ ۷۴: منیٰ سے عرفات کے لیے رات کے وقت کوچ کرنا: [2] ’’المدخل‘‘ (۴/۲۳۷)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۳/۷۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۴/۷۶)۔ ۷۵: عرفہ کی رات جبل عرفات پر آگ جلانا اور شمعیں روشن کرنا: ’’الباعث علی إنکار البدع‘‘ (۶۹)، ’’مجموعۃ الرسائل‘‘ (۲/۳۷۸، ۳۷۹)، ’’الإعتصام‘‘ للشاطبی (۲/۲۷۳)، ’’الإبداع فیی مضار الابتداع‘‘ (۱۶۵)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۳/۷۵)، ’’المناسک‘‘ (۵۴/۷۷)۔ ۷۶: عرفہ کے دن کے لیے غسل کرنا: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۳/۷۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۴/۷۸)۔ ۷۷: عرفات کے قریب پہنچ کر جب جبل رحمت پر نظر پڑھے تو یوں کہنا: ’’سبحان اللہ‘‘، ’’الحمد للہ‘‘، ’’ولا الہ الا اللہ‘‘ اور ’’اللہ اکبر۔‘‘ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۴/۷۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۷۹)۔ ۷۸: عرفہ کے دن نصف النہار کے وقت وقوف کا وقت شروع ہونے سے پہلے عرفات کی طرف کوچ کرنا: ’’الإبداع‘‘ (۱۶۶)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۴/۷۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۵/۸۰)۔ ۷۹: عرفات پر سو مرتبہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ پڑھنا پھر سو مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا
[1] اور سنت، بلکہ عرفہ کی رات منیٰ میں گزارنا واجب ہے۔ لوگ اس سنت میں بہت زیادہ تساہل سے کام لیتے ہیں اور اس پر بعض معلم حضرات ان کی مدد کرتے ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حج میں متابعت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور وہ فقہاء سے ایسی چیز پاتے ہیں جو اس کو ان پر کم اہمیت بنادیتے ہیں، جیسا کہ غزالی نے کہا: منیٰ میں رات گزارنا ایسے ہی ہے جیسے گھر میں رات گزارنا ہے اس کا حج سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (منہ). [2] عرفہ کے دن منیٰ سے طلوع آفتاب کے بعد کوچ کرنا مسنون ہے۔ (منہ). [3] رہی حدیث: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر، عید الاضحی اور عرفات کے دن غسل کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ انتہائی ضعیف ہے، جیسا کہ الزیلعی نے اسے ’’نصب الرایۃ‘‘ (۱/۸۵) میں اور ابن ہمام نے ’’الفتح‘‘ (۱/۴۵) میں روایت کیا ہے، ابن تیمیہ پر اس کا حال مخفی رہا، انھوں نے اپنے ’’مجموع‘‘ (۲/۳۸۰) میں بیان کیا: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے حج کے متعلق صرف تین غسل مروی ہیں: غسل احرام، مکہ میں داخلے کے وقت غسل اور عرفہ کے دن غسل اور جو ان تینوں کے علاوہ ہے۔ جیسے رمی جمار کے لیے غسل، طواف کے لیے اور مزدلفہ میں رات گزارنے کے لیے غسل وغیرہ تو اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ وہ بدعت ہے۔‘‘ (منہ).