کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 655
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۹/۶۳)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۶۵)۔ ۶۴: سعی کے دوران یوں کہنا: میرے رب بخش دے اور رحم فرما (میرے گناہوں کے بارے میں) تو جو جانتا ہے اس سے درگزر فرما، بے شک تو بہت ہی زیادہ عزت و اکرام والا ہے، اے اللہ! اسے حج مقبول یا عمرہ مقبول بنا، گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنا، تین بار اللہ اکبر، اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اللہ اکبر علی ما ہدانا، والحمد للہ علی ما أولانا، لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا الہ الا اللہ وحدہ… یہاں تک: ولو کرہ الکافرون۔‘‘[1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۰/۶۴)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۶۶)۔ ۶۵: صفا ومروہ کے درمیان چودہ چکر لگانا اور اسے صفا پر ختم کرنا: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۰/۶۵)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۶۷)۔ ۶۶: حج یا عمرہ میں سعی کا تکرار: ’’شرح النووی علی مسلم‘‘ (۹/۲۵)، ’’تحیۃ النبی صلي الله عليه وسلم (۱۲۰/۶۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۴/۶۸)۔ ۶۷: سعی سے فارغ ہونے کے بعد دو رکعتیں پڑھنا: ’’الباعث علی إنکار البدع‘‘ (۲۸)، ’’القواعد النورانیۃ‘‘ لشیخ الاسلام ابن تیمیۃ‘‘ (۱۰۱)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۱/۶۷)،[3] ’’المناسک‘‘ (۵۴/۶۹)، ’’صلاۃ التراویح‘‘ (ص۴۵)۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۲/۳۲۸) میں حدیث رقم (۹۲۸) کے تحت فرمایا: علامہ ابن ہمام نے ’’فتح القدیر‘‘ میں اس روایت کو ذکر کیا، لیکن ان پر حدیث کا لفظ ’’سبعہ‘‘ ’’سعیہ‘‘
[1] ’’رب اغفر وارحم وأنت الأعز الأکرم‘‘ ابن مسعود اور ابن عمر سے موقوف مروی ہے، بیہقی نے اسے روایت کیا اور یہ مرفوعاً مروی ہے جو کہ صحیح نہیں۔ (منہ). [2] سنت سات چکر ہے اور مروہ پر ختم ہوگا۔ (منہ). [3] کئی ایک نے طواف کی دو رکعتوں پر قیاس کرتے ہوئے ان دونوں کے استحباب کا موقف اختیار کیا ہے، ابن الہمام نے ’’الفتح‘‘ (۲/۱۵۶۔ ۱۵۷) میں بیان کیا: ’’اس قیاس کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس میں نص موجود ہے، وہ روایت جسے مطلب بن ابو وداعہ نے بیان کیا: انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ اپنی سعی سے فارغ ہوئے تو آپ آئے، آپ نے مطاف (طواف کرنے کی جگہ) کے کنارہ پر دو رکعتیں پڑھیں، جبکہ آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی نہ تھا۔ (احمد، ابن ماجہ) میں کہتا ہوں: اس طرح کے ماہر عالم سے یہ وہم عجیب ہے۔ ان پر لفظ: ’’سعیہ‘‘ بدل گیا، حالانکہ درست لفظ: ’’سبعہ‘‘ ہے، جیسا کہ ’’ابن ماجہ‘‘ رقم (۲۹۵۸) میں ہے اور وہ ’’المسند‘‘ میں لفظ ’’أسبوعہ‘‘ کے ساتھ مروی ہے اور اس کی ایک دوسری روایت میں ہے: ’’طاف بالبیت سبعًا، ثم صلی رکعتین بحذاۂ…‘‘ مزید یہ کہ وہ حدیث اپنی اصل کے حوالے سے اسناد کی طرف سے صحیح نہیں، کیونکہ اس میں اضطراب اور جہالت ہے، جیسا کہ میں نے اسے ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ‘‘ رقم (۹۲۸) میں بیان کیا ہے۔ (منہ).