کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 654
سے وسیع رزق، نفع مند علم اور ہر بیماری سے شفاء کی درخواست کرتا ہوں‘‘: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۸/۵۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۳/۵۹)۔ ۵۸: بعض لوگوں کا آب زمزم سے غسل کرنا: [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم (۱۱۸/۵۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۳/۶۰)۔ ۵۹: ان کا اپنی داڑھیوں کو زم زم کے ساتھ دھونے کا اہتمام کرنا اور اپنے پاس موجود نقدی اور کپڑوں کو حصول برکت کی خاطر دھونا: ’’السنن والمبتدعات‘‘ (۱۱۳)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۹/۵۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۳/۵۹)۔ ۶۰: جو بعض کتب فقہ میں مذکور ہے کہ وہ آب زم زم پیتے وقت کئی سانس لے گا اور ہر مرتبہ اپنی نظر اٹھا کر بیت اللہ کی طرف دیکھے گا: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۹/۶۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۳/۶۲)۔ ۴: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی بدعات ۶۱: صفا ومروہ کے درمیان سعی کے لیے وضو کرنا اور یہ زعم رکھنا کہ جو اس طرح کرتا ہے اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ستر ہزار درجے لکھ دیے جاتے ہیں: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۹/۶۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۳/۶۳)۔ ۶۲: صفا پر چڑھنا حتیٰ کہ دیوار کے ساتھ چمٹ جانا: ’’حاشیۃ ابن عابدین‘‘ (۲/۲۳۴)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۹/۶۲)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۶۴)۔ ۶۳: صفا سے اترتے وقت یہ دعا کرنا: ’’اے اللہ! مجھے اپنے نبی کی سنت پر لگانا، ان کی ملت پر فوت کرنا، فتنوں کی گمراہیوں سے مجھے بچا، اپنی رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم کرنے والے!‘‘ [4]
[1] ابن تیمیہ ’’منسک‘‘ (ص:۳۸۸) آب زم زم کو خوب سیر ہوکر پینا مستحب ہے اور وہ اسے پیتے وقت جو چاہے شرعی دعا کرسکتا ہے، اس سے غسل کرنا مستحب نہیں۔ (منہ). [2] یہ بدعت ہے، آج الحمد للّٰہ ممکن نہیں رہی، اس لیے کہ زم زم کے اوپر جو قبہ تھا اسے گرا کر برابر کردیا گیا تاکہ نمازیوں کے لیے گنجائش پیدا کی جائے اور کنویں کے کمرے کو مسجد کے نیچے ’’بیسمنٹ‘‘ میں بنا دیا گیا ہے، اس طرح کہ وہاں سے بیت اللہ کو دیکھنا ناممکن ہے! (منہ). [3] اس بارے میں وارد روایت موضوع ہے، سیوطی ودیگر نے اسے ’’الموضوعات‘‘ میں نقل کیا ہے۔ دیکھیں: ’’الذیل‘‘ (ص۱۲۲)، ’’التذکرہ‘‘ (ص۷۴)۔ (منہ) میں نے کہا: اس سے آگاہ رہنا چاہیے کہ ہمارے شیخ رحمہ اللہ کے آخری قول کے مطابق صفا و مروہ کے درمیان سعی میں وضو شرط ہے، اور حسن بصری کا یہی موقف ہے، جس طرح میں نے اسے اپنی کتاب ’’نوادر الالبانی‘‘ میں بیان کیا ہے. [4] اس کا کچھ حصہ ابن عمر سے مروی ہے کہ وہ اسے صفا پر پڑھا کرتے تھے۔ امام بیہقی نے ضعیف سند سے اسے روایت کیا ہے۔ (منہ).