کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 652
۴۵: رکن عراقی کے پاس یہ دعا کرنا: ’’اے اللہ! میں شک و شرک، شقاق و نفاق، برے اخلاق اور اہل و مال و اولاد میں برے حال میں لوٹنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۵/۴۵)، ’’المناسک‘‘ (۵۲/۴۷)۔ ۴۶: میزاب (پرنالے) کے نیچے یہ دعا کرنا: ’’اے اللہ! جس روز صرف تیرا ہی سایہ ہوگا، اس روز اپنے سائے تلے جگہ نصیب فرمانا، سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے حوض کوثر کا جام پلانا اس کے بعد مجھے پھر کبھی پیاس نہ لگے، اے شان و شوکت اور عزت والے:‘‘ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۶/۱۴۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۲/۴۸)۔ ۴۷: رمل (طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں تیز تیز چلنے) کے دوران میں یہ دعا کرنا: ’’اے اللہ! اسے حج مبرور (مقبول) بنا، گناہوں سے معافی کا ذریعہ بنا، سعی (کوشش) مشکور بنا، نفع مند تجارت بنا، اے عزیز (عزت و غلبے والے) اے غفور‘‘ : [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۶/۴۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۲/۴۹)۔ ۴۸: اور طواف کے باقی چار چکروں میں یہ دعا پڑھنا: ’’میرے رب بخش دے اور رحم فرما! (میرے بارے میں) تو جو جانتا ہے اس سے تجاوز فرما، بے شک تو بہت ہی زیادہ عزت و اکرام والا ہے:‘‘ [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۶/۴۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۲/۵۰)۔ ۴۹: رکن یمانی کو بوسہ دینا: ’’المدخل‘‘ (۴/۲۲۴)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۶/۴۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۲/۵۱)۔ ۵۰: دو شامی رکنوں اور مقام ابراہیم کو بوسہ دینا اور ان دونوں کا استلام کرنا: ’’الإقتضاء‘‘ (۲۰۴)، ’’مجموعۃ الرسائل‘‘ (۲/۳۷۱) اور ’’الإختیارات العلمیۃ‘‘ لإبن تیمیۃ (ص۶۹)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۷/۵۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۲/۵۲)۔
[1] رافعی نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں، جیسا کہ حافظ رحمہ اللہ نے ’’التلخیص‘‘ (ص۲۱۴) میں یوں فرما کر اس کی طرف اشارہ کیا ہے: ’’میں نے اسے نہیں پایا۔‘‘ (منہ). [2] الاسلام نے اپنے ’’منسک‘‘ (ص۳۷۲) میں بیان کیا: ’’اس کے لیے طواف میں مستحب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے، اور مشروع دعائیں کرے، اگر اس نے پست آواز سے قرآن پڑھا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آپ کے امر سے کوئی ذکر محدود ہے نہ آپ کے فرمان سے اور نہ ہی آپ کی تعلیم سے، بلکہ اس میں باقی شرعی دعائیں کرے گا اور بہت سے لوگ جو پرنالے وغیرہ کے نیچے ایک معین دعا کرتے ہیں تو اس کی کوئی اصل نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکنوں کے درمیان اپنے طواف کو اس دعا کے ساتھ ختم کیا کرتے تھے: ﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (البقرۃ:۲۰۱) جیسا کہ آپ اپنی ساری دعائیں اس دعا کے ساتھ ختم کرتے تھے اور اس میں کوئی ذکر واجب نہیں، اس پر ائمہ کا اتفاق ہے۔‘‘ (منہ).