کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 651
النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۴/۳۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۳۹)۔
۳۸: حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت آواز نکالنا:
’’المدخل‘‘ (۴/۲۲۳)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۴/۳۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۰)۔
۳۹: حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے دھکم پیل اور اسے بوسہ دینے کے لیے نماز میں امام سے پہلے ہی سلام پھیردینا (اور بھاگ کر حجر اسود کو چوم لینا):
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۴/۳۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۱)۔
۴۰: حجر اسود یا رکن یمانی کے استلام کے وقت اس کے آخری/ نچلے حصے کی طرف تیز چل کر جانا:
’’شرح الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۱/۱۲۲) میں الحاج رجب نے بیان کیا، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۵/۴۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۲)۔
۴۱: حجر اسود کے استلام کے وقت ان کا یوں کہنا: (( اَللّٰہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ، وَتَصْدِیْقًا بِکِتَابِکَ۔))
’’المدخل‘‘ (۴/۲۲۵)،[1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۵/۴۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۳)۔
۴۲: حجر اسود کے استلام کے وقت یوں کہنا:
’’اللہم إنی أعوذبک من الکبر والفاقۃ، ومراتب الخزي فی الدنیا والآخرۃ [2]’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۵/۴۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۴)۔
۴۳: طواف کے دوران دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا:
’’المدخل‘‘ (۱/۱۲۲)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۵/۴۳)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۵)۔
۴۴: باب کعبہ کی طرف رخ کرکے مقام ابراہیم علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں کہنا: ’’اے اللہ! گھر تو تیرا گھر ہے، حرم تیرا حرم ہے، امن تیرا امن ہے، یہ مقام تجھ سے جہنم سے پناہ مانگنے کا مقام ہے:‘‘
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۵/۴۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۴۶)۔
[1] ’’المدونۃ‘‘ (۲/۱۲۴) میں ہے کہ امام مالک نے حجر اسود کے مقابل آکر لوگوں کے اس طرح کہنے: ’’إیمانا بک…‘‘ کا انکار کیا ہے جبکہ اسے علی اور ابن عمر سے دو ضعیف سندوں سے موقوف روایت کیا گیا ہے اور ابن عمر کی روایت میں ہیثمی کے قول: ’’اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں‘‘ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، انہیں ایک دوسرے راوی کا التباس ہوگیا، جیسا کہ میں نے اسے ’’السلسلۃ‘‘ میں بیان کیا ہے۔(منہ)
ابوعبیدہ نے بیان کیا: شیخ نے اس تضعیف سے رجوع کرلیا، جیسا کہ میں نے اسے ان سے سنا، لیکن ان کی کتابوں میں یہ چیز مجھے نہیں ملی.
[2] اس بارے میں وارد حدیث کو سیوطی نے ’’ذیل الموضوعات‘‘ (ص۱۲۲) میں ذکر کیا اور کہا: اس میں نہشل کذاب ہے۔(منہ).