کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 650
۳۵) اور ’’المناسک‘‘ (۵۱/۳۷) میں ہے: محرم جب مسجد حرام میں داخل ہو تو اس کا طواف قدوم سے پہلے تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھنا: [1]
اس مسئلے کی تفصیل کہ البیت الحرام کا تحیہ طواف ہی ہے: ہمارے شیخ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۳/۷۳۔۷۴) کی حدیث رقم (۱۰۱۲)[2] کے تحت بیان کیا اور انھوں نے اس پر حکم لگایا کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔
میں قولی سنت یا فعلی سنت نہیں جانتا جو اس معنی کی شہادت دیتی ہو، بلکہ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے نماز (تحیۃ المسجد) پڑھنے کے بارے میں وارد دلائل مسجد حرام کو بھی شامل ہیں اور یہ قول کہ اس (مسجد حرام) کا تحیہ طواف ہی ہے اس کے عموم کے خلاف ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، تو وہ اس کے ثبوت کے بعد ہی قبول کیا جائے گا اور وہ ناممکن ہے، خاص طور پر تجربہ سے ثابت ہے کہ حج کے ایام میں مسجد حرام میں داخل ہونے والے کے لیے ہر مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہونے پر طواف کرنا ممکن ہی نہیں، تو اللہ کا شکر ہے جس نے دین میں وسعت رکھی:
﴿وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ (الحج:۷۸)
’’اللہ نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی حرج اور تنگی پیدا نہیں کی۔‘‘
اس مسئلے کی آگاہی ہونی چاہیے، کہ یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو ورنہ اس کے حق میں مسنون یہ ہے کہ وہ پہلے طواف کرے پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھے۔ میرے رسالے ’’مناسک الحج والعمرۃ‘‘ میں حج اور عمرہ کی بدعات، بدعت رقم ۳۷ دیکھیں۔
۳۶: میں نے اپنے اس ہفتے کے طواف کی یہ اور یہ نیت کی:
’’زاد المعاد‘‘ (۱/۴۵۵، ۳/۳۰۳)، ’’الروضۃ الندیۃ‘‘ (۱/۲۶۱)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۴/۳۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۳۸)۔
۳۷: حجر اسود کا استلام کرتے وقت اس طرح دونوں ہاتھ اٹھانا جس طرح نماز کے لیے دونوں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں:
’’زاد المعاد‘‘ (۱/۳۰۳) اور علامہ فیروز آبادی کا ’’سفر السعادۃ‘‘ (ص۷۰)[3] ’’حجۃ
[1] اور ’’المناسک‘‘ میں اس عبارت کا اضافہ کیا: میں کہتا ہوں: اس پر صرف تحیہ تب ہے جب بعد میں داخل ہو.
[2] اس کی نص یہ ہے: ’’بیت اللہ کا تحیہ طواف ہے۔‘‘.
[3] اور انہوں نے ذکر کیا کہ اسے صرف جاہل ہی کرتے ہیں! اس کے باوجود کہ یہ احناف کا مذہب ہے، ’’ہدایہ‘‘ میں حدیث: ’’صرف سات جگہوں پر ہی ہاتھ اٹھائے جائیں گے…‘‘ سے ان کے لیے دلیل لی گئی ہے اور ان (سات جگہوں) میں سے ’’حجر اسود کا استلام‘‘ بھی ہے۔ لیکن وہ اپنے تمام طرق سے ضعیف ہے، اس کے باوجود ابن ہمام نے ’’فتح القدیر (۲/۱۴۸، ۱۵۳) میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس میں حجر اسود کے ذکر کرنے کی کوئی اصل نہیں، گویا کہ اس نے اسے زیلعی سے ’’نصب الرایہ‘‘ (۲/ ۳۸) میں اخذ کیا ہے اور یہ محل نظر ہے، یہ اس وضاحت کا موقع نہیں۔ (منہ).