کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 649
’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۲۸۹)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۳/۳۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۰/۳۲)۔ ۳۱: تنعیم میں مساجد عائشہ میں نماز کا قصد: ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۵۷۔۳۵۸، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۳/۳۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۰/۳۳)۔ ۳۲: بیت اللہ کے سامنے صلیب بنانا: ’’الإقتضاء‘‘ (۱۰۱)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۳/۳۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۰/۳۴)[1] ۳: طواف کی بدعات ۳۲/ ا : طواف کے لیے غسل: ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۸۰)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۳/۳۳)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۳۵)۔ ۳۳: طواف کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معین ذکر کا عقیدہ رکھنا اور اس کی پابندی کرنا: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فرمایا: ’’اس (طواف) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ذکر محدود و معین نہیں، آپ کے حکم سے نہ آپ کے فرمان سے اور نہ تعلیم سے ہی، بلکہ آپ اس میں تمام شرعی دعائیں کرتے، بہت سے لوگ جو میزاب (پرنالے) وغیرہ کے نیچے کوئی معین دعا کرتے ہیں تو اس کی کوئی اصل نہیں۔‘‘ ’’مناسک الحج والعمرۃ‘‘ ص (۲۳)۔ ۳۴: طواف کرنے والے کا جرابیں وغیرہ پہننا تاکہ اس کے پاؤں کبوتر کی بیٹ پر نہ آئیں اور اس کا ہاتھوں کو ڈھانپنا تاکہ کسی عورت کو ہاتھ نہ لگ جائے[2]: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۳/۳۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۱/۳۶)۔ ۳۵: احرام باندھنے والے کا مسجد حرام میں داخلے پر تحیۃ المسجد کی نماز پڑھنا[3] ، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۱۴/
[1] ہمارے شیخ نے ’’المناسک‘‘ (ص۵۰) کے حاشیے میں فرمایا: وہ اس طرح ہے کہ صلیب کی صورت پر چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرنا. [2] شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’المجموعۃ‘‘ (۲/۳۷۴) میں فرمایا: ’’جس نے یہ کیا اس نے سنت کی مخالفت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے صحابہ اور تابعین بیت اللہ کا طواف بھی کرتے رہے اور مکہ میں کبوتر بھی تھے۔ (منہ). [3] اس کا تحیہ طواف ہی ہے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز ہے۔ دیکھیں: ’’القواعد النورانیۃ‘‘ لابن تیمیۃ (۱۰۱)۔(منہ).