کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 647
۲۰: تبوک پہنچنے پر اسلحہ تان لینا:
’’الإختیارات العلمیۃ‘‘ لشیخ الاسلام ابن تیمیۃ (۷۰)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۱۰/۲۰)، ’’المناسک‘‘ (۴۹/۲۲)۔
۲: احرام اور تلبیہ وغیرہ کی بدعات
۲۱: بعض کتب میں معروف و معین شرائط والے خاص جوتے بنانا: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۹/۲۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۰/۲۳)۔
۲۲: میقات سے پہلے احرام: [2]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۱۱/۲۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۰/۲۴)۔
۲۳: احرام کے وقت اضطباع: [3]
[1] اس جیسی شرائط سنت میں بیان نہیں ہوئیں، اللہ کا دین آسان ہے، ہر وہ شرط جو اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، خواہ وہ سو شرطیں ہوں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں کے بارے میں شرط قائم کی ہے وہ صرف یہ کہ وہ ٹخنوں کو نہ ڈھانپتے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’احرام باندھنے والا موزے نہ پہنے مگر یہ کہ وہ جوتے نہ پائے (تو موزے پہن لے)، پس وہ ان دونوں کو کاٹ لے حتیٰ کہ ٹخنوں کے نیچے تک ہوجائیں۔‘‘ (متفق علیہ).
[2] کیونکہ وہ خلاف سنت ہے، رہی وہ حدیث: ’’حج کے مکمل ہونے سے ہے کہ تم اپنے اہل خانہ کے گھر سے احرام باندھو۔‘‘ وہ منکر ہے، جیسا کہ میں نے اسے ’’سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ‘‘ (رقم۲۱۰) میں بیان کیا ہے کہ صحابہ کی جماعت سے جو مرفوع اور موقوف مروی ہے وہ اس کے خلاف ہے، جیسا کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے روایت کیا، جیسا کہ میں نے وہاں ذکر کیا ہے، الہروی ودیگر نے جو ابن عیینہ سے روایت کیا ہے وہ کس قدر اچھی بات ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے مالک بن انس کو سنا جبکہ ایک آدمی ان کے پاس آیا تو اس نے کہا: ابوعبد اللہ! میں کہاں سے احرام باندھوں؟ انھوں نے فرمایا: ذوالحلیفہ سے، جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا، اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں مسجد نبوی سے قبر شریف کے پاس سے احرام باندھوں؟ انھوں نے فرمایا: ایسے نہ کر، مجھے تمہارے متعلق فتنے کا اندیشہ ہے، اس نے کہا: یہ کون سا فتنہ ہے؟ یہ تو چند میل ہی ہیں جن کا میں اضافہ کر رہا ہوں انھوں نے فرمایا: اس سے بڑھ کر اور فتنہ کیا ہوگا کہ تم سمجھتے ہو کہ تم اس فضیلت کو پہنچ گئے ہو۔ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا ہے! میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہے: ﴿فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ (النور:۶۳) ’’ان لوگوں کو جو اس کے امر کی مخالفت کرتے ہیں،ڈرنا چاہیے کہ کسی فتنے یا دردناک عذاب کا شکار نہ ہوجائیں۔‘‘ اسی سے تم میقات سے پہلے احرام کے جواز پر مزعوم اتفاق کی حیثیت جان لو گے جو کہ ’’شرح الہدایۃ‘‘ (۲/۱۳۲) میں مذکور ہے۔ واللہ المستعان۔ (منہ)
اہم تنبیہ: نماز کی بدعات میں: ’’دوم: من گھڑت نمازوں کی بدعات‘‘ (رقم۱۱) میں بیان ہوچکا، ہم نے ’’ہر میقات پر احرام کے بعد دو رکعتوں کی پابندی کرنا‘‘ کی غلطی پر باخبر کیا ہے، اسے وہاں دیکھیں، اللہ آپ کو ہدایت نصیب فرمائے.
[3] ابن عابدین نے ’’الحاشیۃ‘‘ (۲/۲۱۵) میں بیان کیا: ’’اضطباع (احرام کی چادر کو دائیں کندھے سے نکال کر بائیں کندھے پر اس طرح ڈالنا کہ دایاں کندھا ننگا رہے) طواف سے کچھ دیر پہلے سے لے کر آخر تک ہے بس (اس کے بعد نہیں)۔‘‘ ’’فتح القدیر‘‘ (۲/۱۵۰) میں بھی اسی طرح ہے۔(منہ).