کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 646
اور اس کی مثل یہ کہ ان خواتین کے ساتھ ایک محرم ہو، وہ کہیں کہ وہ ان سب کا محرم ہے! ’’المناسک‘‘ (۴۹/۱۶)[1] ۱۵: حجاج سے، جو فریضہ حج کی ادائیگی کا قصد رکھتے ہیں، ٹیکس وصول کرنا: ’’الإحیاء‘‘ (۱/۲۳۶)‘‘، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۹/۱۵)، ’’المناسک‘‘ (۴۹/۱۷)۔ ۱۶: مسافروں کا ہر جگہ قیام کرتے وقت دو رکعتیں پڑھنا اور ان کا کہنا: ’’اللہم أنزلنی منزلا مبارکا وأنت خیر المنزلین…‘‘:[2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۹/۱۶)، ’’المناسک‘‘ (۴۹/۱۸)۔ ۱۷: مسافر کا ہر جگہ قیام کے وقت گیارہ مرتبہ سورۂ اخلاص، ایک مرتبہ آیت الکرسی اور یہ آیت ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ﴾ (الزمر:۶۷) پڑھنا: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۹/۱۷)، ’’المناسک‘‘ (۴۹/۱۹)۔ ۱۸: مسافر جہاں بھی جائے وہاں کا مسالا/ پیاز کھائے: [4] ۱۹: کسی ایسی جگہ کا قصد کرنا جس کے قصد سے خیر کی امید ہو، جبکہ شریعت نے اسے مستحب قرار نہ دیا ہو، مثلاً ایسی جگہیں جن کے متعلق مشہور ہے: ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نشان ہے، جیسا کہ بیت المقدس کے صخرہ کے بارے میں، دمشق کے بالائی علاقے میں مسجد قدم کے بارے میں کہا جاتا ہے اور اسی طرح انبیاء اور صالحین کی قبریں: ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ لمخالفۃ أصحاب الجحیم‘‘ (ص۱۵۱۔۱۵۲)[5] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم (۱۰۹/۱۹)، ’’المناسک‘‘ (۴۹/۲۱)۔
[1] ہمارے شیخ نے اسے ’’المناسک‘‘ کے حاشیے میں بیان کیا۔ یعنی کسٹم ڈیوٹی. [2] ’’شرح شرعۃ الاسلام‘‘ (ص۳۶۹) دیکھیں۔ (منہ). [3] ’’شرح شرعۃ الاسلام‘‘ (ص۳۷۳۔۳۷۴)دیکھیں۔(منہ). [4] انھوں نے اسے ’’شرح الشرعۃ‘‘ (۳۸۱) میں مستحب قرار دیا ہے، جبکہ استحباب ایک شرعی حکم ہے اس کے لیے دلیل کا ہونا ضروری ہے، انھوں نے اس کے لیے اس سے استدلال کیا ہے: اور حدیث میں ہے: ’’جس نے زمین کا مسالا یعنی پیاز کھایا اسے اس کا پانی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘ یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کی اصل صرف ابن الاثیر کی النہایہ ہی میں جانتے ہیں اور اس میں کتنی ہی روایتیں ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔(منہ). [5] عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہے کہ انھوں نے اپنے حج میں لوگوں کو ایک جگہ کی طرف جلدی کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے بتایا: ایک مسجد ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، انھوں نے فرمایا: اہل کتاب اس طرح ہلاک ہوئے، انھوں نے اپنے انبیاء کے آثار کو عبادت گاہ بنالیا، تم میں سے جسے اس میں نماز کا وقت ہوجائے وہ وہاں نماز پڑھ لے۔ بصورت دیگر نہ پڑھے۔ ہماری کتاب ’’تحذیرالساجد‘‘ (ص۹۷) دیکھیں، پھر اس کا ’’الإحیاء‘‘ (۱/۲۳۵۔ طبع الحلبي) میں موجود عبارت سے موازنہ کریں، عجیب دیکھیں گے۔(منہ).