کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 645
۱۲: دعویٰ توکل کی تصحیح کے لیے زاد راہ کے بغیر سفر کرنا: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۸/۱۲)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۱۲)۔
۱۳: انبیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لیے سفر: [2]
’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ لشیخ الإسلام ابن تیمیۃ (۲/۳۹۵)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۸/۱۳)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۱۳)۔
۱۴: آدمی کا ایسی شادی شدہ عورت سے عقد کرلینا جبکہ اس نے حج پر جانے کا ارادہ کیا ہو، اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو، وہ اس سے عقد کرے تاکہ وہ اس کے ساتھ محرم ہوجائے: [3]
’’السنن والمبتدعات‘‘ (۱۰۹)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۸/۱۴)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۱۴)۔
۱۴/(ا): عورت کا اجنبی آدمی سے بھائی چارہ قائم کرنا، تاکہ وہ اس کے زعم کے مطابق اس کا محرم ہوجائے گا، پھر وہ اس کے ساتھ اسی طرح معاملہ کرے گی جس طرح وہ اپنے محرموں کے ساتھ کرتی ہے:
’’المناسک‘‘ (۴۹/۱۵)[4]
۱۴/(ب): عورت کا (ان کے زعم کے مطابق) قابل اعتماد خواتین کی جماعت کے ساتھ محرم کے بغیر سفر کرنا۔
[1] غزالی نے ’’الإحیاء‘‘ (۳/۲۴۹) میں اسے مستحب قرار دیا ہے اور انھوں نے ایک اور جگہ (۴/۲۲۹) پر بیان کیا: ’’جنگلات کی طرف زادراہ کے بغیر سفر کرنا جائز ہے اور وہ توکل کا اعلیٰ مقام ہے۔
میں کہتا ہوں: یہ باطل ہے، اگر ایسے ہی ہے جیسے اس نے کہا تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے اور ہم یقینا جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کیا، کس طرح جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق ہے کہ آپ نے مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے زاد راہ ساتھ لیا، میں نہیں جانتا کہ غزالی کس طرح یہ کہتے ہیں جبکہ وہ حجۃ الاسلام ہیں! اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی﴾ (البقرۃ:۱۹۷) ’’زاد راہ لو، بے شک بہترین زاد و راہ تقویٰ ہے۔‘‘ یہ آیت یمن والوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ حج پر جاتے تو زادِ راہ نہیں لیتے تھے اور وہ کہتے تھے: ہم توکل کرنے والے ہیں، بخاری اور دیگر نے اسے روایت کیا ہے۔ وہ کیا چیز ہے جس نے غزالی کو اس حقیقت سے دور کیا جس پر کتاب و سنت دلالت کرتے ہیں! کیا وہ جہالت ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ یہ اس ضمن میں سے ہے جو ان جیسے شخص پر مخفی نہیں رہ سکتا ہے وہ صرف تصوف ہے جو اپنے پیروکار کو نصوص کی تاویل کے طریق سے شرع سے خروج/ شرع کی بغاوت پر آمادہ کرتا ہے، وہ اس میں اور علم کلام میں برابر ہے، اللہ سنت کے ذریعے اس کی مخالف ہر چیز سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں بچائے۔ (منہ).
[2] رہی وہ زیارت جس کے ساتھ سفر نہ ہو تو وہ مشروع ہے اور اس پر علماء کا اتفاق ہے، ان میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ہر وہ شخص جو ان پر اس (قبروں کی زیارت) کی تردید کا الزام لگاتا ہے وہ جاہل یا خود غرض ہے۔(منہ).
[3] یہ سب سے زیادہ خبیث بدعت ہے۔ کیونکہ اس میں شریعت میں حیلہ سازی ہے، اور بے حیائی میں واقع ہونا ہے، جیسا کہ یہ مخفی نہیں۔(منہ).
[4] یہ بدعت ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ میں موجود نہیں.