کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 644
۵: چار رکعتیں پڑھنا: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۶/۵)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۵)۔
۶: حج کے ارادے سے روانہ ہونے والے شخص کا اس زعم سے سورۂ آل عمران، آیت الکرسی، سورۃ القدر اور سورۃ الفاتحہ پڑھنا کہ اس سے دنیا و آخرت کی حاجتیں پوری ہوجائیں گی: [2]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۶/۶)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۶)۔
۷: حجاج کو الوداع کرتے وقت اور ان کی واپسی پر بلند آواز سے ذکر و تکبیر:
’’المدخل‘‘ (۴/۳۲۲)، ’’مجلۃ المنار‘‘ (۱۲/۲۷۱)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۷/ ۷) ’’المناسک‘‘ (۴۸/ ۷)
۸: حجاج کو الوداع کرتے وقت اعلان کرنا:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۷/۸)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۸)۔
۹: کعبہ کو غلاف چڑھاتے وقت تقریب کا اہتمام: [3]
’’المدخل‘‘ (۴/۲۱۳)، ’’الإبداع فی مضار الابتداع‘‘ (۱۳۱۔۱۳۲)، ’’تفسیر المنار‘‘ (۱۰/۳۵۸)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۷/۹)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۹)
۱۰: بعض ممالک کی طرف سے حاجیوں کو موسیقی کے ساتھ الوداع کرنا:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۷/۱۰)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۱۰)۔
۱۱: اللہ تعالیٰ سے لو لگا کر اکیلے ہی سفر کرنا جیسا کہ بعض صوفیاء کا دعویٰ ہے:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۷/۱۱)، ’’المناسک‘‘ (۴۸/۱۱)۔
[1] اس بارے میں وارد روایت بھی ضعیف ہے۔ الخرائطی نے اسے انس کے حوالے سے ’’مکارم الأخلاق‘‘ میں ان الفاظ سے روایت کیا ہے: ’’جب کوئی بندہ اپنے سفر کی تیاری کرلیتا ہے اور چار رکعتیں پڑھ کر سفر کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس طرح اس کا اپنے اہل خانہ پر جانشین چھوڑنا اللہ کو بہت محبوب ہے۔‘‘ العراقی نے فرمایا: ’’وہ روایت ضعیف ہے۔‘‘ (منہ).
[2] اس بارے میں ایک مرفوع روایت ہے، لیکن وہ باطل ہے جیسا کہ ’’التذکرۃ‘‘ (۱۲۳) میں ہے۔ (منہ).
[3] الحمد للہ اس بدعت کا برسوں سے خاتمہ ہوچکا ہے، لیکن اس کی جگہ وہ بدعت رہی جو اس کے بعد ہے: [اور وہ ہے: بعض حکومتوں کی طرف سے حاجیوں کو موسیقی کے ساتھ الوداع کرنا اور وہ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم میں نمبر شمار (۱۰) میں ہے۔] الباجوری علی ابن القاسم (۱/۴۱) میں ہے: مقام ابراہیم اور اس جیسی دیگر چیزوں پر غلاف چڑھانا حرام ہے۔ (منہ).