کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 643
حج اور عمرہ کی بدعات ۱: احرام سے پہلے کی بدعات: ۱: ماہ صفر میں سفر نہ کرنا، اس میں نکاح و جماع وغیرہ اعمال کی ابتدا نہ کرنا: [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم (۱۰۵/۱)، ’’المناسک‘‘ (۴۷/۱)۔ ۲: مہینے کے وسط میں ترک سفر اور جب چاند عقرب (آسمان کے برجوں میں سے ایک برج) میں ہو تب بھی: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم (۱۰۵/۲)، ’’المناسک‘‘ (۴۷/۲)۔ ۳: مسافر کے سفر کے بعد گھر کی صفائی ستھرائی چھوڑ دینا: ’’المدخل لإبن الحاج‘‘ (۲/۶۷)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۵/۳)، ’’المناسک‘‘ (۴۷/۳)۔ ۴: حج کے لیے روانہ ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھنا، پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص، جب فارغ ہو تو یہ دعا پڑھنا: ’’اللہم بک انتشرت، وإلیک توجہت…‘‘ آیت الکرسی، سورۂ اخلاص اور معوذتین وغیرہ اور دیگر چیزیں پڑھنا جو کہ بعض کتب، مثلاً: ’’إحیاء الغزالی‘‘، ’’فتاوی ہندیۃ‘‘ اور ’’شرعۃ الإسلام‘‘ وغیرہ میں بیان ہوئی ہیں: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۰۶/۴)، ’’المناسک‘‘ (۴۷/۴)۔
[1] حدیث ہے: ’’جس نے مجھے صفر کے ختم ہوجانے کی بشارت دی میں اسے جنت کی بشارت دیتا ہوں۔‘‘ یہ روایت موضوع ہے، جیسا کہ ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ (۵/۳۳۰) میں اور کتب موضوعات میں ہے۔(منہ). [2] اس بارے میں ایک حدیث ہے جو کہ صحیح نہیں، جیسا کہ ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ (ص۱۲۲) میں ہے۔(منہ). [3] حدیث ہے: ’’جب کوئی بندہ سفر پر روانہ ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھتا ہے تو وہ اپنے اہل خانہ کے لیے اس سے بہتر کوئی جانشین نہیں چھوڑتا۔‘‘ یہ روایت ضعیف الاسناد ہے، جیسا کہ میں نے اسے ’’سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ‘‘ رقم(۳۷۲) میں بیان کیا ہے، اس کے ذریعے تعبد درست نہیں، جیسا کہ وہ الاصول میں مقرر اور تسلیم شدہ ہے، مناوی کا اس کا ضعف بیان کرنے کے بعد یوں کہنا: ’’اسے مسنون بنایا جائے گا‘‘ درست نہیں، اس کی مثل انس کی روایت ہے، انھوں نے کہا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر کے ارادے سے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ’’اللہم بک انتشرت…‘‘ اسے ابن عدی نے روایت کیا اور بیہقی (۵/۲۵۰) نے روایت کیا، اس کی سند میں عمر بن مساور ہے … اور اسے عمرو کہا جاتا ہے … اور وہ منکر الحدیث ہے، جیسا کہ بخاری نے فرمایا، اور دوسروں نے بھی اسے ضعیف قرار دیا.