کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 633
الجنائز‘‘ (۱۱۰/۲۳۷)۔ ۲۳۸: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر یا آپ کے علاوہ کسی اور نبی اور صالحین کی قبر سے پردہ ہٹا کر بارش کے لیے دعا کرنا: [1] ’’الرد علی البکری‘‘ (۲۹)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۳۵/ ۲۳۸) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱۰/ ۲۳۸) ۲۳۹: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رقعے بھیجنا جن میں ان کی ضرورتیں تحریر ہوں: ’’أحکام الجنائز، (۳۳۵/۲۳۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱۱/۲۳۹)۔ ۲۴۰: ان میں سے بعض کا کہنا: یہی مناسب ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے وقت اپنی زبان سے اپنی ضرورتوں اور اپنے گناہوں کی بخشش کا ذکر نہ کرے کیونکہ وہ اس کی ضرورتوں اور اس کے مفادات کے متعلق اس سے زیادہ جانتے ہیں: [2]
[1] میں نے کہا: رہا وہ جسے ابوالجوزاء اوس بن عبد اللہ نے روایت کیا ، انھوں نے کہا: اہل مدینہ شدید قحط کا شکار ہوگئے تو انھوں نے عائشہ سے شکایت کی، انھوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر دیکھو، وہاں سے آسمان کی طرف ایک روشن دان بناؤ، حتیٰ کہ اس کے درمیان اور آسمان کے درمیان کوئی چھت نہ ہو، راوی نے بیان کیا: انھوں نے اس طرح کیا تو ہم پر خوب بارش ہوئی، حتیٰ کہ گھاس اگ آئی، اونٹ موٹے ہوگئے حتیٰ کہ وہ چربی سے پھیل گئے، اس سال کا نام ’’عام الفتق‘‘ رکھ دیا گیا۔ یہ روایت صحیح نہیں، دارمی نے اسے اپنی ’’السنن‘‘ (۱/۴۳۔۴۴) میں نقل کیا اور اس کی سند میں ابونعمان ہے اور وہ محمد بن الفضل ہے جو کہ بدخوئی کے حوالے سے معروف ہے، آخری عمر میں وہ اختلاط کا شکار ہوگیا تھا، جیسا کہ محدثین میں سے عقیلی ودیگر نے کہا ہے۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے ’’الرد علی البکری‘‘ (ص۶۸) میں فرمایا: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے آسمان کی طرف روشن دان کھولنے کے بارے میں جو مروی ہے تاکہ بارش نازل ہو وہ صحیح نہیں اور اس کی اسناد ثابت نہیں۔ جس چیز سے اس کا جھوٹ ہونا واضح ہوتا ہے، وہ یہ کہ حیاتِ عائشہ میں گھر کا کوئی روشن دان نہ تھا، بلکہ اس کا بعض حصہ اسی طرح باقی تھا جس طرح وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا، اس کے کچھ حصے پر چھت تھی اور کچھ پر چھت نہیں تھی اور اس کے اندر دھوپ آتی تھی، جیسا کہ صحیحین میں آپ ( رضی اللہ عنہا ) سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی تھی، سایہ بعد میں ظاہر نہ ہوا۔‘‘ میری کتاب ’’التوسل وأنواعہ وأحکامہ‘‘ (ص۱۲۷۔۱۳۲) دیکھیں۔ (منہ). [2] اس کے لیے باعث افسوس ہے کہ، یہ بدعت اور وہ جو اس کے بعد ہے، میں نے اسے ابن الحاج کی کتاب ’’المدخل‘‘ (۱/۲۵۹، ۲۶۴) سے اس حیثیت سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اسے تسلیم کرتے ہوئے نقل کیا ہے گویا کہ وہ ان امور سے ہے جن کے بارے میں شریعت میں نص موجود ہے! ان کی اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جو پہلے بیان ہوچکیں اور ان کے متعلق یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ان کی طرف سے ہیں اور ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک بڑی قسم بدعات کے بارے میں خاص کتاب میں ذکر کریں گے، اس سے تمھیں بڑا تعجب ہوگا، جب معلوم ہوگا کہ اس کی یہ کتاب بدعات کی تفصیل پر دلیل فراہم کرنے میں ایک عظیم مصدر ہے اور یہ فصل جس کے ذریعے میں نے اس کتاب کو ختم کیا ہے اس پر شاہد عدل ہے، لیکن جب تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ اپنے علم میں کسی اور کا مقلد تھا اور بڑی حد تک صوفیاء کے مذاہب سے متاثر تھا تو تم سے یہ تعجب جاتا رہے گا اور مالک کے قول کی صحت کے بارے میں تمہارے یقین میں اضافہ ہوجائے گا: ’’اس صاحب قبر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے علاوہ ہم میں سے ہر ایک کی بات ردّ کی جاسکتی ہے۔‘‘ (منہ).