کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 630
۲۲۴: مسجد نبوی میں داخلے کے وقت قبر شریف کی طرف رخ کرنا اور وہاں قبر سے دور انتہائی خشوع کے ساتھ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر کھڑے ہونا گویا کہ وہ نماز میں ہے: [1]
(بدعت رقم ۱۴۴ دیکھیں) [2]
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۳۴/۲۲۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱۰/۲۲۴)۔
۲۲۵: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کی درخواست کرنا اور یہ آیت ﴿وَلَوْ أَ نَّہُمْ إِذْ ظَّلَمُوْا أَنْفُسَہُمْ…﴾ (النساء:۶۴) کی تلاوت کرنا:
’’الرد علی الأخنائی‘‘ (۱۶۴، ۱۶۵،۲۱۶)، ’’السنن‘‘ (۶۸)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۴/۲۲۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱۰/۲۲۵)۔
۲۲۶:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنانا: [3]
بدعات رقم (۲۰۱۔۲۰۳) دیکھیں۔
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۳۴/۲۲۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱۰/۲۲۶)۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’التوسل‘‘ (ص۱۳۵۔۱۳۶) میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام نقل کیا ہے، انھوں نے فرمایا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنانے کے مسئلے کی تفصیل
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’قاعدۃ جلیلۃ‘‘ میں فرمایا:
’’…ائمہ مسلمین میں سے کسی ایک نے ذکر کیا نہ چاروں اماموں نے اور نہ ان کے علاوہ کسی اور نے اور نہ کسی امام نے، مناسک حج میں نہ اس کے علاوہ میں، کہ کسی کے لیے مستحب ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی قبر کے پاس سوال کرے کہ وہ اس کی سفارش کریں یا آپ اپنی امت کے لیے دعا کریں یا آپ کی امت پر پیش آنے والے دین و دنیا کے مصائب کی آپ سے شکایت کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے صحابہ کئی طرح کی آزمائشوں کا شکار ہوئے، کبھی قحط سالی، کبھی رزق میں کمی، کبھی خوف اور دشمن کی قوت، کبھی گناہوں اور معاصی کے ذریعے، ان میں سے کوئی بھی رسول کی قبر پر
[1] میں نے یہ سن ۶۸ میں دیکھا تھا۔ اتنے لوگ یہ عمل کررہے تھے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے بالخصوص یہ وہ لوگ کررہے تھے جو پردیسی تھے۔ (منہ).
[2] وہ بدعت یہ ہے: قبر کے سامنے نمازی کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنا اور پھر بیٹھ جانا.
[3] دیکھیں: وسیلے کی بدعات، اس میں اس اہم مسئلے کی مزید تفصیل ہے.