کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 600
نہیں دیا، اس لیے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، پھر یہ کہ اجماع بھی ہے…‘‘[1]
یہ اور احادیث سابقہ نے قبروں پر مساجد بنانے کی تحریم کے متعلق بتایا، اور یہ دوسرا مسئلہ ہے جس کی ہم نے ’’التعلیقات الجیاد‘‘ میں مذمت کی ہے اور اس کی ممانعت کے بارے میں علماء کے اقوال ذکر کیے ہیں۔
۲۱۶: میت کو مسجد میں دفن کرنا[2] یا اس پر مسجد بنانا:
’’اصلاح المساجد‘‘ (۱۸۱) مسئلہ ۱۲۵۔ فقرہ: ۹[3] ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/۲۱۶) ’’احکام الجنائز (۳۳۳/۲۱۶)
۲۱۷: نماز میں قبر کی طرف رخ کرنا اور ساتھ ہی کعبہ کو پشت کرنا:
’’الاقتضاء‘‘ (۲۱۸) ’’احکام الجنائز (۳۳۳/۲۱۷)’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/۲۱۷)۔
۲۱۸: قبروں کو اجتماع گاہ (میلہ گاہ) بنانا:
’’الاغاثۃ‘‘ (۱/ ۱۹۰-۱۹۳) ’’الابداع‘‘ (۸۵-۹۰) اور ’’احکام الجنائز‘‘ ط۔ المعارف کے فقرہ ۱۰ مسألہ ۱۲۵ دیکھیں۔ ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۳۳/ ۲۱۸) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/ ۲۱۸)۔
۲۱۹: قبر پر قندیل لٹکانا تاکہ لوگ وہاں آئیں اور اس کی زیارت کریں:
’’المدخل (۳/ ۲۷۳، ۲۷۸) ’’الاغاثۃ‘‘ (۱۹۴-۱۹۸) ’’الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۴/ ۲۲۴)، ’’الابداع‘‘ (۸۸)، (المسألۃ ۱۲۵۔ فقرۃ ’’ل‘‘ احکام الجنائز۔ ط۔ المعارف)، ’’احکام الجنائز (۳۳۳/۲۱۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/۲۱۹)
۲۲۰: قبر یا پہاڑ یا کسی درخت پر چراغاں کرنے کے لیے تیل اور شمع کی نذر ماننا:
’’الاصلاح‘‘ (۲۳۲۔ ۲۳۳)، ’’الاقتضاء‘‘ (۱۵۱)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۳۳/ ۲۲۰) تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/ ۲۲۰)
[1] یہ پیچھے گزر چکا ہے اسے ہم نے اس مسئلے کی ابتداء میں کتاب ’’تحذیر الساجد‘‘ سے نقل کیا ہے۔ یہ نقل ص:۳۳۔ ۳۴ پر ہے.
[2] ہمارے شیخ نے ’’تحذیر الساجد‘‘ (ص۹) میں فرمایا:
’’قبرستان میں دفن کرنا مسنون ہے، اسی لیے ابن عروہ نے ’’الکواکب الدراری‘‘ (ق ۸۸/۱ تفسیر ۵۴۸) میں فرمایا: ’’گھروں میں دفن کرنے کی نسبت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ابوعبداللہ احمد کو زیادہ پسند تھا …‘‘.
[3] ’’أحکام الجنائز‘‘ ط۔ المعارف.