کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 594
ثابت ہوا کہ اس علت مذکورہ کے خاتمے کے متعلق قول اور جو کچھ اس پر استوار ہے سب باطل ہے، کیونکہ وہ سلف صالحین رضی اللہ عنہم کے خلاف ہے اور وہ صحیح احادیث سے متصادم ہے۔ واللہ المستعان
قبروں پر بنائی گئی مساجد میں نماز پڑھنے کا مسئلہ
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اپنی علمی کتاب ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/ ۳۷۴-۳۸۲) میں بیان فرمایا:
’’جان لیجئے کہ حدیث اول[1] قبروں پر مساجد بنانے کی حرمت کے متعلق بتاتی ہے، اور ان میں نماز پڑھنے کی حرمت بدرجہ اولیٰ لازم آتی ہے، کیونکہ وہ… جیسا کہ ظاہر ہے… ذریعے سے ممانعت کی قبیل سے ہے۔ اور وہ تعمیر کرنا۔ تاکہ غایت متحقق نہ ہو۔ اور وہ اس عمارت میں عبادت کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی معصیت پر قائم کی گئی ہے، اس کے علاوہ اس پر سے اعتقادی مفاسد جنم لیتے ہیں جیسا کہ وہ ہورہا ہے۔‘‘
رہی دوسری حدیث[2] تو وہ پہلی سے زیادہ عموم رکھتی ہے، کیونکہ وہ اپنے الفاظ کے ساتھ ذریعے اور غایت کو شامل ہے، پس کسی جگہ کو مسجد بنانے کا معنی اس میں نماز پڑھنا ہے، [3] اور اس پر عمارت بنانے کا اس کا معنی اس میں نماز پڑھنے اور سجدے کرنے کی خاطر ہے، لہٰذا یہ دونوں لازم وملزوم ہیں جیسا کہ المنادی نے اسے ’’الفیض‘‘ میں بیان کیا ہے، اور بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہود و نصاریٰ پر اس لیے لعنت کی گئی کہ انہوں نے وہ مساجد اس لیے بنائیں تاکہ وہ ان میں نماز پڑھیں، تو جس نے کسی ایسی مسجد میں نماز پڑھی جس میں قبر ہے خواہ اس نے قبر کا قصد نہ کیا تو اس نے ان لوگوں سے مشابہت کی جن پر غضب ہوا اور وہ گمراہ ہوئے، جبکہ عام و خاص نصوص میں ان سے
[1] وہ صحیحین میں روایت عائشہ ہے:
’’وہ اس طرح کے تھے کہ جب ان کا کوئی صالح شخص فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں وہ مورتیاں بناتے تھے، وہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدترین مخلوق ہوں گے۔‘‘ الثمر المستطاب‘‘ (۱/ ۳۷۳) اور ’’تحذیر الساجد‘‘ (ص: ۱۳)۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے وہاں ’’فتح الباری‘‘ میں موجود حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے: ’’یہ صالحین کی قبروں پر مساجد بنانے اور ان میں ان کی مورتیاں بنانے کی حرمت پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ نصاریٰ کرتے ہیں، ان دونوں میں سے ہر عمل الگ طور پر حرام ہے، پس آدمیوں کی مورتیاں بنانا حرام ہے اور قبروں پر مساجد بنانا بھی حرام ہے…‘‘.
[2] وہ صحیح مسلم (۵۳۲) میں جندب بن عبداللہ البجلی کی روایت کے حوالے سے ہے اور اس میں ہے: ’’سن لو تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور اپنے صالحین کی قبروں کو مساجد بنایا کرتے تھے، سن لو تم قبروں کو مساجد نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔‘‘ اسے ’’الثمر (۱/۳۷۳) اور ’’تحذیر الساجد‘‘ (ص۱۵) میں دیکھیں.
[3] شیخ الاسلام نے الاقتضاء (۱۵۹) میں فرمایا: جس جگہ نماز پڑھنے کا قصد کیا جائے اسے مسجد ٹھہرانا ہے، بلکہ ہر جگہ جہاں نماز پڑھی جائے اسے مسجد کہا جائے گا خواہ وہاں کوئی عمارت نہ ہو جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے لیے ساری زمین کو مسجد اور باعث طہارت بنادیا گیا ہے۔‘‘ (منہ).