کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 585
جن کے مجاور ان میں موجود چیزوں (مدفون حضرات) کو اللہ کو چھوڑ کر اس کے مثل بنانے کی طرف دعوت دیتے ہیں اس گرائے (جاتے/ جلائے جاتے) کے زیادہ حق دار ہیں اور یہ زیادہ واجب ہے، اسی طرح گناہوں اور نافرمانی کی جگہیں، جیسے میکدے اور برائیوں کے منتظم وغیرہ، عمر بن خطاب نے اس پوری بستی کو جلادیا تھا جہاں شراب فروخت ہوتی تھی اور انھوں نے رویشد ثقفی[1] کی شراب کی دکان جلادی تھی اور اس کا نام فویسق رکھا، اور انھوں نے سعد کے محل [2] کو جلادیا جب وہ رعایا سے الگ ہوکر اس میں رہتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے گھروں کو جلانے کا قصد کیا تھا جو نماز باجماعت اور جمعہ[3] میں نہیں آتے تھے، لیکن آپ نے اس لیے انہیں نہ جلایا کہ ان میں خواتین اوربچے تھے جن پر وہ واجب نہ تھا، جیسا کہ آپ نے اس کے متعلق بیان کیا[4]اور اس میں ہے کہ کسی اور کی نیکی اور قربت پر وقف صحیح نہیں جیسا کہ اس مسجد کا وقف صحیح نہیں، اسی طرح اس مسجد کو گرادیا جائے گا جب وہ کسی قبر پر بنائی جائے گی، جیسا کہ اس میّت کو قبر سے نکال لیا جائے گا جب اسے مسجد میں دفن کیا جائے گا، امام احمد اور دیگر نے اس کی صراحت کی ہے، پس دین اسلام میں مسجد اور قبر اکٹھے نہیں ہوسکتے، بلکہ ان دونوں میں سے جو بھی دوسرے پر پیش آئے گا اس سے روکا جائے گا، اور حکم پہلے کے لیے ہوگا، خواہ ایک ساتھ وضع ہوں جائز نہیں، یہ وقف صحیح ہے نہ جائز اور نہ اس مسجد میں نماز درست ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، اور قبر کو سجدہ گاہ بنانے والے یا وہاں چراغاں[5]کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ یہ دین اسلام ہے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے رسول اور
[1] دولابی نے ’’الکنی‘‘ (۱/۱۸۹) میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کے حوالے سے روایت کیا، انھوں نے کہا: میں نے عمر کو دیکھا انھوں نے رویشد ثقفی کے گھر کو جلایا حتیٰ کہ وہ انگارے یا کوئلے کی طرح ہوگیا، وہ ہمارا پڑوسی تھا اور شراب بیچتا تھا، اس کی سند صحیح ہے اور عبدالرزاق نے اسے صفیہ بنت ابوعبید سے روایت کیا جیسا کہ وہ ’’الجامع الکبیر‘‘ (۳/۲۰۴/۱) میں ہے اور ابوعبید نے ’’الأموال‘‘ (ص۱۰۳) میں ابن عمر سے روایت کیا اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔ (منہ).
[2] اس سے مراد محل کا دروازہ ہے اور اس قصے کو عبد اللہ بن المبارک نے ’’الزہد‘‘ (۱۷۹/۱) میں تفسیر ’’الکواکب الدراری‘‘ (۵۷۵ اور رقم ۵۱۳۔ ۵۱۸ط) سے روایت کیا ہے اور احمد نے (رقم۳۹۰) ایسی سند سے روایت کیا جس کے راوی ثقہ ہیں۔(منہ).
[3] متفق علیہ من حدیث ابی ہریرۃ، اور وہ صحیح ابی داؤد (۵۵۷، ۵۵۸) میں منقول ہے۔
تنبیہ:… حدیث جمعہ ایک دوسری حدیث ہے جو ابن مسعود سے مرفوع مروی ہے۔ اسے صرف مسلم نے روایت کیا ہے، بخاری نے روایت نہیں کیا۔(منہ).
[4] میں نے کہا: یہ اگرچہ معقول ہے، لیکن اس کی سند آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح نہیں، کیونکہ اس میں ابومعشر نجیح المدنی اپنے سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے، بلکہ اس کی حدیث منکر ہے، جیسا کہ میں نے اسے تخریج المشکاۃ (۱۰۷۳)، دوسری تحقیق، میں بیان کیا ہے۔ (منہ).
[5] وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ’’اللہ قبروں کی زیارت کرنے والیوں اور ان پر مساجد بنانے اور وہاں چراغاں کرنے والوں پر لعنت کرے۔‘‘ اسے ابوداؤد ودیگر نے روایت کیا، لیکن اس کی سند ضعیف ہے، بہت سے سلفیوں نے اسے بڑے شوقسے ذکر کیا ہے، حق یہ ہے کہ حق کہا جائے اور اس کی اتباع کی جائے، متقدمین میں سے جس نے اسے ضعیف قرار دیا وہ امام مسلم ہیں، انھوں نے کتاب التفصیل میں بیان کیا: ’’یہ حدیث ثابت نہیں، ابوصالح باذام کی روایت سے لوگوں نے احتراز کیا ہے، اس کا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں۔‘‘
ابن رجب نے اسے ’’الفتح‘‘ میں نقل کیا ہے جیسا کہ ’’الکوکب‘‘ (۶۵/۸۲/۱) میں ہے۔
میں نے ’’الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ وأثرھا السیٔ فی الأمۃ‘‘ (رقم۲۲۵) میں اس روایت کا ضعف ذکر کیا ہے، میں نے وہاں ذکر کیا کہ چراغاں کرنے کے علاوہ وہ روایت ’’صحیح لغیرہ‘‘ ہے کیونکہ وہ (چراغاں کرنے کے الفاظ) منکر ہیں وہ صرف اسی ضعیف طریق سے بیان ہوئے ہیں۔
اس حدیث کے متعلق مجھے ایک سنگین غلطی کا پتہ چلا ہے، ایک کتاب ’’القول المبین‘‘ میں (ص۷۹) پر معاصر سلفی علماء میں سے ایک فاضل شخصیت نے یوں بیان کیا ہے: ’’یہ حدیث اگرچہ اس کی سند میں اصحاب السنن کے ہاں کچھ کلام ہے، حاکم کے ہاں اس کی اسناد اس کلام سے خالی ہے، کیونکہ حاکم کا طریق ان کے طریق سے الگ ہے۔‘‘
میں نے کہا: اس حدیث کا حاکم اور ان کے علاوہ کسی اور محدث کے نزدیک مدار ابوصالح عن ابن عباس پر ہے، حاکم (۱/۳۷۴) نے اس کے بعد فرمایا: ’’ابوصالح وہ باذام ہے دونوں نے اس سے حجت نہیں لی۔‘‘ میں نے کہا: وہ جمہور ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے، صرف العجلی اکیلے نے اس کی توثیق کی ہے، جیسا کہ حافظ نے ’’التہذیب‘‘ میں بیان کیا اور العجلی توثیق میں ابن حبان کی طرح اپنے تساہل میں مشہور ہیں اور ہم نے اس حدیث کے لیے کوئی اور طریق نہیں پایا کہ ہم اس کے ذریعے اس کو قوی قرار دے سکیں جبکہ ہم اس کے متعلق مزید بحث کرچکے ہیں۔
ہوسکتا ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس سے کلام کے ذریعے بعض شواہد مراد ہوں جنھیں میں نے وہاں ذکر کیا ہے، لیکن وہاں چراغاں کا ذکر اصلاً نہیں ہے، وہ وہم در وہم ہے۔ (منہ)
میں نے کہا: وہاں میری دو شرحیں ہیں:
اول: ان کا کہنا: ’’امام مسلم فی کتاب ’’التفصیل‘‘ اسی طرح ابن رجب کی ’’فتح الباری‘‘ (۲/۴۵۲) میں واقع ہوا ہے اور اس کا درست یہ ہے: ’’تفصیل السنن‘‘ وہ ان کی مفقود کتب میں سے ہے، میری کتاب ’’الإمام مسلم ومنہجہ فی الصحیح‘‘ (۱/۲۴۷) دیکھیں۔
دوم: شیخ السابق نے علمی گرفت کی، وہ صرف میر ی کتاب ’’القول المبین‘‘ کے لیے ہے، الطبعہ میں جس کی ترتیب سے فارغ ہونے کے بعد میں نے ایک حدیث کے لفظ کی تصحیح سے مراجعت کی: ’’والسرج‘‘ شیخ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ نے اس طرف اشارہ کیا اور میں نے اس پر بہت اچھی چیزوں کا اضافہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ خیر و عافیت کے ساتھ اسے مکمل کرنا اور نشر کرنا آسان فرمائے.