کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 578
/۱۹۴۔۱۹۸)، ’’الخادمی علی الطریقۃ‘‘ (۴/۳۲۲)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۱۹۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۱۹۹)۔ ۲۰۰: ذکر و قراء ت، روزہ اور ذبح کے لیے انبیاء اور صالحین کی قبروں کا قصد کرنا: ’’الإقتضاء‘‘ (۱۸۱/۱۵۴)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۲۰۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۲۰۰)۔ ۲۰۱: قبر والے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا وسیلہ اختیار کرنا: ’’الإغاثۃ‘‘ (۱/۲۰۱۔۲۰۲،۲۱۷)، ’’السنن‘‘ (۱۰)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۲۰۱)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۲۰۱)۔ ۲۰۲: قبر والے کے ذریعے اللہ پر قسم دینا: ’’تفسیر سورۃ الاخلاص ’’لإبن تیمیۃ‘‘ (۱۷۴)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۲۰۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۲۰۲)۔ ۲۰۳: انبیاء اور صالحین میں سے کسی میّت یا غائب سے یوں کہنا: اللہ سے (میرے لیے) دعا کریں یا اللہ تعالیٰ سے سوال کریں: ’’القاعدہ‘‘ (۱۲۴)، ’’زیارۃ القبور‘‘ لإبن تیمیۃ (۱۰۸،۱۰۹)، ’’الرد علی البکری‘‘ (۵۷)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۲۰۳)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۲۰۳)۔ ۲۰۴: میّت کو مدد کے لیے پکارنا جیسا کہ ان کا کہنا: فلاں جناب! میری مدد کرو یا میرے دشمن کے خلاف میری مدد کرو: ’’القاعدۃ‘‘[1] (۱۴، ۱۷، ۱۲۴)، ’’الرد علی البکری‘‘ (۳۰۔۳۱، ۳۸، ۵۶، ۱۴۴)، ’’السنن‘‘ (۱۲۴)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/ ۲۰۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/۲۰۴)۔ ۲۰۵: یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ کے علاوہ میّت معاملات چلانے میں اختیار رکھتی ہے: ’’السنن‘‘ (۱۱۸)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۲/۲۰۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۹/۲۰۵)۔
[1] یعنی القاعدۃ الجلیلۃ فی التوسل والوسیلۃ از شیخ الاسلام ابن تیمیہ۔ یہ کئی دفعہ شائع ہوئی۔ زیادہ عمدہ اور زیادہ مفید وہ نسخہ ہے جس کی تحقیق شیخ ربیع بن ہادی مدخلی نے کی ہے.