کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 576
اور یہ اس کے منافی نہیں جو امام مالک کے حوالے سے گزرا ہے کہ دعا کے وقت حجرے کی طرف رخ کرنا مشروع نہیں، وہ حکایت جس میں بیان ہوا ہے کہ جب مالک سے منصور عباسی نے حجرے کی طرف رخ کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انھوں نے اسے اس کا حکم دیا اور فرمایا: وہ تمہارا اور تمہارے باپ آدم کا وسیلہ ہے، یہ حکایت باطل ہے، اور وہ مالک پر جھوٹ باندھنا ہے، اس کی اسناد معروف نہیں، پھر وہ اس کے خلاف ہے جو ان کے اصحاب کی کتب میں ثقات کی اسانید سے ثابت ہے، جیسا کہ اسماعیل بن اسحاق القاضی ودیگر نے اسے ذکر کیا ہے۔ اس کے مثل جو انھوں نے ان سے ذکر کیا کہ ان سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو حجرے کی طرف رخ کرکے دیر تک کھڑے رہتے ہیں اور اپنے لیے دعا کرتے ہیں، تو مالک نے اس کی تردید کی اور ذکر کیا کہ وہ ان بدعات میں سے ہے جسے صحابہ نے کیا نہ تابعین نے اور انھوں نے فرمایا: ’’اس امت کے آخری فرد کی اصلاح اسی چیز سے ہوگی جس نے اس کے پہلے فرد کی اصلاح کی تھی۔‘‘[1] ۱۹۷: انبیاء اور صالحین کی قبروں کے پاس قبولیت کی امید سے دعا کرنا: [2] ’’القاعدۃ الجلیلۃ‘‘ (۱۷، ۱۲۶۔۱۲۷)، ’’الرد علی البکری‘‘ (۲۸۔۵۷)، ’’الرد علی الأخنائی‘‘ (۲۴)، ’’الإختیارات العلمیۃ‘‘ (۵۰)، ’’الإغاثۃ‘‘ (۲۰۱۔۲۰۲۔۲۱۷)۔ ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۱۹۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۱۹۷)، ’’التعلیقات الحسان‘‘ (۸/۲۱۰)۔ ۱۹۸: انبیاء اور صالحین کی قبروں کے پاس نماز کا قصد کرنا: ’’الرد علی الأخنائی‘‘ (۱۲۴)، ’’الإقتضاء‘‘ (۱۳۹)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۱۹۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۱۹۸)۔ نماز و دعا کے لیے انبیاء اور صالحین کی قبروں کے قصد کے مسئلے کی تفصیل ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الثمر المستطاب‘‘ (۲/۵۸۳۔۵۸۴) میں فرمایا:
[1] دیکھیں: ’’قاعدۃ جلیلۃ‘‘ لابن تیمیۃ (ص۵۳۔۶۲)۔ (منہ). [2] انھوں نے ’’الإغاثۃ‘‘ (۱/۲۱۸) وغیرہ میں بیان کیا: ’’شافعی سے منقول حکایت: کہ وہ ابوحنیفہ کی قبر کے پاس دعا کا قصد کیا کرتے تھے واضح جھوٹ ہے۔‘‘ اور شیخ الاسلام نے ’’الفتاوی‘‘ (۴/۳۱۰، ۳۱۱،۳۱۸) میں فرمایا: ’’اس کے قریب قریب جامع دمشق کی مشرقی بالائی جانب اس جگہ کے قریب نماز اور دعا کا قصد کرنا جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ھود علیہ السلام (پیغمبر) کی قبر ہے، جبکہ علماء کا موقف ہے کہ وہ معاویہ بن ابوسفیان کی قبر ہے یا اس مثالی لکڑی کے پاس (نماز اور دعا کا قصد کرنا) جس کے نیچے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر ہے۔‘‘ (منہ)۔ میں کہتا ہوں جو ہم نے رقم ۱۶۴ پر تعلیق لگائی ہے اسے دیکھیں.