کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 571
۱۹۶: جس سمت میں کوئی صالح شخص ہو اس کی طرف پشت کرنے سے احتراز: ’’الإقتضاء‘‘ (۱۷۵)، ’’الرد علی البکری‘‘ (۲۶۶)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۳۱/۱۹۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۸/۱۹۶)۔
ان میں سے بعض کا دعا کے وقت قبروں اور قبر والوں کی طرف رخ کرنا، اس طرح انہیں چھونا اور انہیں بوسہ دینا، جس سمت میں کوئی صالح شخص ہو اس سمت کا قصد کرنا اور اس طرف رخ کرنا، بعض کا اس سمت پشت کرنے سے احتراز کرنا جس سمت میں کوئی صالح شخص ہو، جبکہ اسی وقت وہ بیت اللہ کی طرف پیٹھ کر رہا ہوتا ہے، اور ان میں سے بعض کا اپنے لیے دعا کرتے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی طرف رخ کرنے کے مسئلے کی تفصیل: [1]
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’احکام الجنائز‘‘ کے مسئلہ رقم (۱۱۵) کے تحت بیان کیا:
ان (قبروں کی زیارت) کے ذریعے نصیحت قبول کرنے اور آخرت یاد کرنے کے لیے قبروں کی زیارت کرنا مشروع ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی بات نہ کی جائے جو رب سبحانہ و تعالیٰ کو ناراض کردے، جیسے قبر والے سے دعا، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس سے مدد طلب کرنا، یا اس کو بے عیب قرار دینا، اور اسے قطعی طور پر جنتی ماننا وغیرہ۔[2]
اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ابوہریرہ کی ’’الأدب المفرد‘‘[3] رقم(۶۱۱) میں روایت: …’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور (دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے…‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے حاشیہ میں بیان کیا:
اس حدیث میں بہت اہم فائدہ ہے اور وہ دعا کے وقت قبلہ رخ ہونا ہے، اسی لیے شیخ الاسلام نے اپنی بعض کتب میں فرمایا:
’’دعا کے لیے صرف اسی سمت رخ کیا جائے جس سمت نماز کے لیے کیا جاتا ہے۔‘‘
[1] یہ متفرق بدعات ہیں جو جنازوں کی بدعات کی بدعت نمبر ۱۸۸، ۱۹۵، اور ۱۹۶ پر مشتمل ہیں، شیخ رحمہ اللہ نے انہیں مسئلہ رقم ۱۲۱ کے تحت ’’الجنائز‘‘ ص۲۴۶ اور اس کے بعد کے صفحات میں ذکر کیا ہے، اس میں قبروں کی زیارت کے وقت قبر والوں کے لیے دعا کرتے ہوئے قبروں کی طرف عدم استقبال پر بحث ہے۔ فائدے کے لیے ہم نے ترجیح دی کہ ہم اس مسئلے میں شیخ رحمہ اللہ اور دیگر اہل علم کا کلام نقل کریں، جس سے اس دور میں بہت سے لوگ اپنے فوت شدگان کی قبروں کی زیارت کے وقت یا پھر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے وقت غافل رہتے ہیں.
[2] جن لوگوں کے بارے میں کوئی شرعی دلیل نہیں (کہ وہ جنتی ہیں تو) ان کے بارے میں حسن ظن تو رکھا جاتا ہے مگر انہیں قطعی طور پر جنتی قرار دینا درست نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں دخل اندازی ہے۔ کوئی شخص نہیں جانتا کہ مرتے وقت مرنے والے کی دلی کیفیت کیا تھی، لہٰذا کسی متعین شخص کو انفرادی طور پر جنتی (یا جہنمی) قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (شہباز حسن).
[3] ’’صحیح الأدب المفرد‘‘ (ص۲۲۹) رقم (۴۷۷/۶۱۱)۔ ط: مکتبۃ الدلیل.