کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 543
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۶/۱۵۱)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۱)۔ ۱۵۲: اہل کتاب کے قبرستان پر یہ آیت: ﴿زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰی وَرَبِّی لَتُبْعَثُنَّ﴾ (التغابن:۷) پڑھنا: [1] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۶/۱۵۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۲)۔ ۱۵۳: چاندنی راتوں میں قبرستان میں منبروں اور کرسیوں پر وعظ کرنا: ’’المدخل‘‘ (۱/۲۶۸)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۶/۱۵۳)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۳)۔ ۱۵۴: قبروں کے درمیان بلند آواز سے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ پڑھنا: [2] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۷/۱۵۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۴)۔ ۱۵۵: بعض قبور کی زیارت کرنے والے کو حاجی کا نام دینا: [3] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۷/۱۵۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۵)۔ ۱۵۶: ان کی زیارت کرنے والے کے واسطے سے انبیاء علیہم السلام کو سلام پہنچانا: ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۷/۱۵۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۶)۔ ۱۵۷: جمعہ کے دن خواتین کا صالحیہ (دمشق) میں مزارات کی طرف جانا اور اس میں آدمیوں کا اپنی عمر کے حساب سے ان (خواتین) کے ساتھ شریک ہونا: ’’إصلاح المساجد‘‘ (۲۳۱) ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۷/۱۵۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘
[1] انھوں نے اسے ’’شرح الشرعۃ‘‘ (ص۵۶۸) میں مستحب قرار دیا ہے، سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں، بلکہ اس میں اس کا خلاف ہے۔ مسئلہ (۱۲۲) کی طرف رجوع کریں۔ (منہ). [2] میں نے ان میں سے کسی کو ایک سے زائد مرتبہ ہر روز طلوع آفتاب سے پہلے قبر پر زور سے آواز دیتے ہوئے دیکھا ہے، اس نے حرام اور بدعت کو اکٹھا کردیا ہے! (منہ). [3] شیخ الاسلام نے ’’الإختیارات‘‘ (۱۸۱) میں بیان کیا: ’’جو قبروں کی زیارت کرنے والے کو حاجی کا نام دیتا ہے اسے روکا جائے گا، الاّ یہ کہ اسے کفار و گمراہوں کا حاجی، کہا جائے تو درست ہے۔ جس نے اس زیارت کا نام حج رکھا یا اس نے اس کے لیے مناسک قرار دیے، تو وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس بارے میں کوئی ایسا کام کرے جو حج کے خصائص میں سے ہے۔‘‘ (منہ).