کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 542
۱۴۸: قبرستان میں سورۂ یس پڑھنا: [1] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۵/۱۴۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۵/۱۴۸)۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الجنائز‘‘ (ص۲۰) فقرہ (۱۵) کے تحت بیان کیا: رہی قریب المرگ کے پاس سورۂ یس کی قراء ت اور اسے قبلہ رخ کرنا تو اس بارے میں ایک بھی حدیث صحیح نہیں۔ ۱۴۹: گیارہ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنا: (اس کی روایت موضوع ہے، جیسا کہ مسئلہ ۱۱۹ ص ۲۴۵ کے آخر میں بیان گزرا ہے۔) ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۵/۱۴۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۰)۔ ۱۵۰: اس طرح دعا کرنا: اے اللہ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے صدقے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اس میّت کو عذاب نہ دے۔2[2] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۶/۱۵۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۶/۱۵۰)۔ ۱۵۱: ان پر اس طرح سلام کرنا: ’’علیکم السلام‘‘، ’’علیکم‘‘ سے پہلے السلام کہنا: (جبکہ سنت اس کے برعکس ہے، جیسا کہ اس باب میں وارد تمام احادیث میں ہے، میں نے مسئلہ ۱۱۸[3] میں بیان کیا ہے۔
[1] اور حدیث : ’’جو کوئی قبرستان جائے اور وہاں سورۂ یس پڑھے، اللہ ان سے عذاب میں تخفیف کردیتا ہے اور ان کے لیے اس میں عدد کے برابر نیکیاں ہیں۔‘‘ کتب السنہ میں اس کی کوئی اصل نہیں اور جب سیوطی نے ’’شرح الصدور‘‘ (ص۱۳۰) میں نقل کیا، تو انھوں نے اس کی تخریج میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا: ’’الخلال کے مصنف عبد العزیز نے اسے اپنی سند سے انس سے روایت کیا۔‘‘ پھر میں نے اس کی سند پر آگاہی حاصل کی تو پتہ چلا کہ وہ ہلاک ہونے والے کی اسناد ہے، جیسا کہ میں نے اسے ’’الاحادیث الضعیفۃ‘‘ (۱۲۴۶) میں ثابت کیا ہے۔ (منہ). [2] البرکوی نے اسے ’’أحوال أطفال المسلمین‘‘ (ص۲۲۹) میں نقل کیا ہے، انھوں نے کہا: اور روایت میں ہے: ’’جس نے کسی مومن کی قبر کی زیارت کی اور کہا: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں… اللہ اس سے صور پھونکنے کے دن تک کے لیے عذاب دور کردیتا ہے۔‘‘ یہ حدیث باطل ہے اس کی کتب السنۃ میں کوئی اصل نہیں، میں نہیں جانتا کہ البرکوی رحمہ اللہ نے اسے کسی محدث کی طرف منسوب کیے بغیر کس طرح نقل کرنے کی اجازت طلب کی، جبکہ اس میں بدعتی توسل حرام اور مکروہ ہے جو ان کے ہاں حرام ہے، جیسا کہ انھوں نے اسے اپنے مذکورہ رسالے (ص۳۵۲) میں ثابت کیا ہے۔ (منہ). [3] اس بدعت کے متعلق قائل کا شبہ اور ان میں سے ’’الشرعۃ‘‘ (ص ۷۵۰) کے شارح جابر بن سلیم کی روایت، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا… تو میں نے عرض کیا: علیک السلام، آپ نے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ تَحِیَّۃُ الْمَیِّتِ…! ’’علیک السلام‘‘ کہنا تو میت کے لیے تحیہ (دعا و سلام) ہے۔‘‘ (ابوداؤد: ۲/۱۷۹)، الترمذی ۲/۱۲۰، طبع بولاق، حاکم ۴/۱۸۶) اور انھوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور وہ جیسا کہ ان دونوں نے کہا: خطابی نے کہا: آپ نے یہ جو فرمایا اس سے اس طرف ایک اشارہ ہے جو ان کی طرف سے تحیۃ الاموات میں عادت و معمول ہے۔ یعنی: جاہلیت میں، جب وہ میّت کا نام دعا سے مقدم کرتے تھے، وہ ان کے اشعار میں مذکور ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے: عَلَیْکَ سَلَامُ اللّٰہِ قَیْسَ بْنَ عَاصِمٍ۔ وَرَحْمَتُہُ مَا شَائَ أَنْ یَتَرَحَّمَا۔ سنت احیاء و اموات کے تحیہ میں مختلف نہیں۔‘‘ ابن القیم نے ’’التہذیب‘‘ میں اور علی القاری نے ’’المرقاۃ‘‘ (۲/۴۰۶، ۴۷۹)، میں اس کی تائید کی ہے، ان دونوں کا مطالعہ کریں۔ (منہ).