کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 531
۱۱۸: اموال وقف کرنا… خاص طور پر نقدی… قرآن عظیم کی تلاوت کے لیے، یا یہ کہ نوافل پڑھے جائیں گے یا لا الہ الا اللّٰہ کی تسبیح نکالی جائے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ پڑھی جائے اور اس کا ثواب وقف کرنے والے یا اس کے پاس آنے والے کی روح کو پہنچایا جائے: ’’الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۴/۳۲۳)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۲۱/۱۱۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۴/۱۱۸)۔
۱۱۹: میّت کا ولی (سرپرست) پہلی رات گزرنے سے پہلے میسر چیز میں سے اس کے لیے صدقہ کرے، اگر وہ کوئی چیز نہ پائے تو وہ دو رکعتیں پڑھے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ، آیت الکرسی ایک مرتبہ اور دس مرتبہ سورۃ التکاثر پڑھے گا، جب فارغ ہوگا تو یوں کہے گا: ’’اللہ! میں نے یہ نماز پڑھی ہے اور تو جانتا ہے کہ میری اس سے مراد کیا ہے، اللہ! اس کا ثواب فلاں فلاں میّت کی قبر تک پہنچا دے۔‘‘[1]
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۲۲/۱۱۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۴/۱۱۹)۔
۱۲۰: میّت کا پسندیدہ کھانا میّت کی طرف سے صدقہ کرنا:
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۲/۱۲۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۴/۱۲۰)۔
۱۲۱: تین مہینوں: رجب، شعبان اور رمضان میں فوت شدگان کی روح کی طرف سے صدقہ کرنا:
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۲۲/۱۲۱)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۴/۱۲۱)۔
۱۲۲: اسقاط نماز:
’’إصلاح المساجد‘‘ (۲۸۱۔۲۸۳)، (ص۱۷۴، مسألۃ ۱۱۳ کی تعلیق دیکھیں)۔ [2] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۲۲/۱۲۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۴/۱۲۲)۔
۱۲۳: اموات کے لیے قراء ت اور انھیں قراء ت سنانا:
’’السنن‘‘ (۶۳۔۶۵)، دیکھیں: ’’مسألۃ ۱۱۴، ص ۲۱۹۔ ۲۲۳ [3] اور مسألۃ ۱۱۹، ص ۲۴۱)۔[4] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۲/۱۲۳)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۴/۱۲۳)۔
۱۲۴: میّت کے لیے نفل نماز:
[1] بڑی عجیب بات ہے کہ میں نے جس کتاب سے یہ بدعت نقل کی وہ ’’شرح الشرعۃ‘‘ (ص۵۶۸) ہے، انھوں نے کہا: ’’سنت یہ ہے کہ میّت کا ولی صدقہ کرے…‘‘ اس کی سنت میں قطعاً کوئی اصل نہیں، شاید کہ وہ مشائخ کی سنت ہو، جیسا کہ بعض حاشیہ نویسوں نے کسی شارح کے قول کی اس کے ساتھ تفسیر کی ہے: کہ نماز شروع کرتے وقت زبان سے نیت کرنا سنت ہے۔ (منہ).
[2] احکام الجنائز، ط: المکتب الاسلامی.
[3] احکام الجنائز، ط: المعارف.
[4] ایضاً.