کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 529
مطالعہ کریں۔ ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۲۰/۱۰۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۳/۱۰۵)۔ ۱۰۶: تعزیت کو تین ایام سے محدود کرنا: (دیکھیں مسئلہ: ۱۱۰، [1] ص: ۲۰۹) [2] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۲۰/۱۰۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۳/۱۰۶)۔ ۱۰۷: ان دریوں وغیرہ کو جو میت کے گھر میں تعزیت کے لیے آنے والوں کے بیٹھنے کے لیے بچھائی جاتی ہیں، اسی طرح چھوڑ دیتا حتیٰ کہ سات دن گزر جاتے ہیں، پھر اس کے بعد وہ انہیں ہٹاتے ہیں: ’’المدخل‘‘ (۳/۲۷۹۔۲۸۰)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۲۰/۱۰۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۳/۱۰۷)۔ ۱۰۸: ان الفاظ کے ساتھ تعزیت کرنا: ’’أعظم اللہ لک الأجرو ألہمک الصبر، ورزقنا وإیاک الشکر، فإن أنفسنا وأموالنا وأھلینا وأولادنا من مواہب اللہ عزوجل الھنیۃ، وعواریہ المستودعہ، متعک بہ فی غبطۃ وسرور، وقبضہ منک بأجر کبیر: الصلاۃ والرحمۃ والہدی إں إحتسبتہ، فاصبر، ولا یحبط جزعک أجرک فتندم، وأعلم أن الجزع لا یرد شیئا، ولا یدفع حزنا وما ہو نازل، فکأن قد۔‘‘ [3] ۱۰۹: ان الفاظ کے ساتھ تعزیت: ’’إن فی اللہ عزائً من کل مصیبۃ، وخلفا من کل فائت، فباللہ فثقوا، وإیاہ فارجوا، فإنما المحروم من حرم الثواب‘[4] احکام الجنائز‘‘ (۳۲۰/۱۰۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۳/۱۰۸)۔ ۱۱۰: میّت کے گھر والوں سے کھانے کی ضیافت:
[1] مسودے میں ۱۱۳ ہے جبکہ صحیح وہ ہے جسے ہم نے ثابت کیا ہے. [2] احکام الجنائز، ط: المعارف. [3] گزشتہ حاشیہ دیکھیں. [4] ۱۰۸، ۱۰۹ میں مذکور دونوں دعاؤں کو ’’شرح الشرعۃ‘‘ (ص۵۶۲، ۵۶۳) وغیرہ میں مستحسن قرار دیا ہے، پہلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ان کے بیٹے کی وفات پر ان الفاظ سے تعزیت کی، لیکن وہ حدیث موضوع ہے، جبکہ دوسری اس طرح مروی ہے کہ خضر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ان الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے تعزیت کی، جبکہ وہ ضعیف ہے، شافعی نے اسے اپنی ’’مسند‘‘ (۱۸۲۰) میں روایت کیا، جبکہ ابن کثیر نے اپنی ’’تاریخ‘‘ (۱/۳۳۲) میں اسے ضعیف قرار دیا۔پہلی روایت پر مسئلہ ۱۰۹، ص: ۲۰۸ کی تعلیق میں تنبیہ گزر چکی ہے۔ (منہ).