کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 526
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’احکام الجنائز‘‘ (ص۱۹۷-۱۹۸) میں فقرہ (۱۰۴) کے تحت اور تلخیص الجنائز‘‘ (۶۵) کے تحت بیان کیا: میت کو دفن کرنے کے بعد کچھ امور مسنون ہیں:
۴: میت کو آج کی معروف تلقین نہ کی جائے، کیونکہ اس بارے میں وارد حدیث صحیح نہیں،[1] بلکہ آپ قبر کے پاس کھڑے ہو کر اس (میت) کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرتے۔ اس کے لیے مغفرت طلب کرتے اور حاضرین کو بھی اس کا حکم فرماتے تھے، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے وہ فرماتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم میت کو دفن کرنے کے بعد وہاں کھڑے ہو کر فرماتے:
’’اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کرو، کیونکہ اس سے ابھی پوچھا جائے گا۔‘‘
اسے ابوداؤد (۲/۷۰)، حاکم (۱/۳۷۰)، بیہقی (۴/۵۶) نے روایت کیا، عبداللہ بن احمد نے ’’زوائد الزہد‘‘ (ص۱۲۹) میں بیان کیا اور حاکم نے فرمایا:
صحیح الاسناد، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، وہ اسی طرح ہے جس طرح ان دونوں نے کہا، اور نووی (۵/ ۲۹۲) نے فرمایا: اس کی اسناد جید ہے۔
اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۱/ ۸۳۸) میں بیان کیا:
موت کے بعد تلقین بدعت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ سنت میں وارد نہیں، لہٰذا اس سے کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ دار تکلیف (ذمہ داریوں کے گھر) سے دارالجزاء کی طرف چلا گیا ہے، اور یہ کہ وہ تذکیر و تلقین کو قبول
[1] اسی طرح ابن القیم نے ’’زاد المعاد‘‘ (۱/۲۰۶) میں بیان کیا اور نووی ودیگر نے اسے ضعیف قرار دیا، جیسا کہ میں نے اسے ’’التعلیقات الجیاد‘‘ میں ذکر کیا، پھر میں نے اس قول کو ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ‘‘ (۵۵۹) میں ثابت کیا۔
صنعانی نے ’’سبل الاسلام‘‘ (۲/۱۶۱) میں بیان کیا: ائمہ تحقیق کے کلام سے حاصل ہوتا ہے کہ وہ روایت ضعیف ہے، اس پر عمل کرنا بدعت ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کی کثرت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔‘‘
مجھے ان کا قول: ’’اس پر عمل بدعت ہے‘‘ بہت پسند آیا، اور یہ ایک حقیقت ہے، بہت سے علماء اس سے غافل ہیں، کیونکہ وہ اس طرح کی حدیث کی وجہ سے بہت سے امور مشروع کرتے ہیں اور انہیں مستحب جانتے ہیں، وہ اس قاعدے کا سہارا لیتے ہیں: ’’فضائل اعمال میں ضعیف روایت پر عمل کیا جائے گا‘‘ اور وہ اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ اس کا موقع اس میں ہے جس کی مشروعیت کتاب وسنت کے ذریعے ثابت ہو، صرف ضعیف حدیث کے ذریعے نہیں… پھر میں نے اس اہم مسئلے میں کئی بلند پایہ اہل علم کا کلام نقل کرتے ہوئے ’’صحیح الترغیب والترہیب‘‘ (۱/۴۷-۶۶۔ط۔ المعارف) کے اپنے مقدمے میں بڑی تفصیل بیان کی ہے۔ (منہ)
میں نے کہا: اسی طرح ’’تمام المنۃ‘‘ (ص۳۴-۴۰) ’’صحیح الجامع‘‘ (۱/ ۴۹-۵۶) کے مقدمے اور ’’تخریج الکلم الطیب‘‘ (ص۵۱-۵۴) کے مقدمے میں تفصیل بیان کی گئی اور انہوں نے ’’احکام الجنائز‘‘ (ص۱۹۴، ۱۹۸) ’’الضعیفۃ‘‘ (۲/ ۱۵۲، ۱۶۱، ۲۶۴-۲۶۵) اور ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/ ۲۱۷-۲۱۹) میں کئی اشارے کیے ہیں.