کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 516
دوسری ظاہری ،صورت جس پر وہ حدیث مکمل طور پر منطبق ہوتی ہے، وہ ہے جو اس دور کے آخری وقت میں گاڑیوں پر جنازے میں شرکت کرنا ہے، ان میں ایسے لوگ سوار ہوتے ہیں جو آسودہ حال تارکین نماز کے لیے (دین میں سے) کوئی حصہ نہیں، حتیٰ کہ جب میت گاڑی رکتی ہے اور جنازے کو مسجد میں نماز جنازہ کے لیے داخل کر دیا جاتا ہے، یہ آسودہ حال لوگ مسجد کے سامنے اپنی گاڑیوں میں ٹھہرے رہتے ہیں، کبھی ان میں سے بعض اتر آتے ہیں جنازے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ نفاق و مداہنت کے انداز میں قبر تک اس کے ساتھ جائیں۔[1] جبکہ وہ عبادت اور آخرت کی یاد دہانی کے لیے نہیں ہوتا، واللّٰہ المستعان۔
میرے نزدیک اس حدیث کی تاویل و تفسیر کی یہ وہ وجہ ہے، اگر میں نے درست شرح کی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر میں نے غلطی کی ہے تو وہ میری طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی سے درخواست ہے کہ وہ میری ہر بھول چوک اور عمداً خطائیں معاف فرمائے۔مجھ میں یہ سب کچھ ہے۔ [2]
۷۰: بعض اموات کو توپ گاڑی/ بکتر بند گاڑی میں رکھ کر لے جانا:
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۵/ ۷۰) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/ ۷۰)
پنجم:… نماز جنازہ کی بدعات
۷۱: ہر روز غروب آفتاب کے بعد ان مسلمانوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جو دنیا کے مختلف علاقوں میں فوت ہوئے:
’’الاختصارات‘‘ (۵۳) ’’المدخل‘‘ (۴/ ۲۱۴)، ’’السنن، (۶۷،) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۱) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۱)۔
۷۲: کسی ایسے شخص کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جبکہ معلوم ہو کہ اس کی اس کے وطن میں نمازجنازہ پڑھی گئی ہے:
دیکھیں: ۵۹۔ فقرہ ساتواں [3] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۲)
[1] میں (یعنی: شیخ البانی رحمہ اللہ ) نے کہا: رہا ان کا اعلانات میں یوں کہنا: ’’…اس کا آخری ٹھکانا‘‘ تو یہ کم از کم کفریہ لفظ ہے، مجھے اعلان کرنے والے مسلمانوں سے اس لفظ کے استعمال سے بہت ہی تعجب ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قبر آخری ٹھکانا نہیں، بلکہ وہ دنیا و آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے، وہاں سے دوبارہ اٹھایا جانا ہے پھر آخری ٹھکانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَرِیقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیقٌ فِی السَّعِیْرِo﴾ (الشوری: ۷) ’’ایک فریق جنت میں اور ایک فریق جہنم میں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ﴾ (فصلت: ۲۴) ’’پس ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یہ لفظ (آخری ٹھکانا) کسی کافر و ملحد شخص نے ہی کہا، پھر مسلمانوں نے انتہائی غفلت میں ان کی تقلید کرتے ہوئے اسے اختیار کر لیا ﴿فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍo﴾ (القمر: ۱۷) ’’تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے۔‘‘ (منہ).
[2] یہ شیخ البانی رحمہ اللہ کی عاجزی وانکساری ہے۔ (شہباز حسن).
[3] ص: ۱۱۷، ط: المعارف.