کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 512
’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/۵۶) ۔ ۵۷: جنازے کے پیچھے اس طرح کے کلمات پڑھنا: ’’اللہ اکبر اللہ اکبر، اشہد أن اللہ یحی ویمیت وہو حی لا یموت، سبحان من تعزز بالقدرۃ والبقاء، وَقَہَرَ العباد بالموت والفناء‘‘[1] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۴/ ۵۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/ ۵۷)۔ ۵۸: جنازے کے پیچھے آواز دینا: ’’اس کے لیے مغفرت طلب کرو، اللہ تمہیں بخش دے گا۔‘‘ اور اس طرح کی آوازیں لگانا: ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۴/ ۵۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/ ۵۸)۔ ۵۹: کسی صالح شخص کی قبر کے پاس سے یا چوراہے کے پاس سے گزرتے وقت پکار کر کہنا ’’فاتحہ‘‘ (یعنی فاتحہ پڑھو) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۴/ ۵۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/ ۵۹) ’’المدخل‘‘ (۲/ ۲۲۱) ’’الابداع‘‘ (ص۱۱۳)۔ ۶۰: جنازے میں شریک شخص کا یوں کہنا: ’’اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہلاک ہونے والوں میں سے نہیں کیا۔[2] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۵/ ۶۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/ ۶۰)۔ ۶۱: ان میں سے بعض کا اعتقاد ہے کہ جب جنازہ صالح ہوگا تو وہ اس (جنازے) کے اٹھانے والوں کے نہ چاہنے کے باوجود ولی کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے ٹھہر جائے گا: ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۵/ ۶۱)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۰/ ۶۱)۔ ۶۲: اس (جنازے) کو دیکھ کر یوں کہنا: ’’یہ وہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: اے اللہ! ایمان و تسلیم کے لحاظ سے ہمیں بڑھا دے۔‘‘[3] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۵/ ۶۲)، ’’تلخیص
[1] اس نے ’’شرح شرعۃ الاسلام‘‘ (ص ۶۶۵) میں اسے مستحب قرار دیا ہے۔ (منہ). [2] اس نے مفتاح الکرامۃ‘‘ (۱/ ۴۶۹۔ ۴۷۱) میں صراحت کی ہے کہ وہ مستحب ہے۔ (منہ). [3] اس نے اسے ’’شرح الشرعۃ‘‘ (۶۶۵) میں نقل کیا، مکمل حدیث کا ابتدائی حصہ اس طرح ہے: ’’جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور کہو…‘‘ انہوں نے اس کا ذکر کیا۔ میں اس تمام کو نہیں جانتا، اس کا اوّل ’’المسند‘‘ (۳/۳۱۷) میں ہے، اور بیہقی (۴/ ۲۶) میں جابر کی روایت سے ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں، (جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہونے کے امر کے متعلق بہت سی احادیث ہیں، اور وہ اگرچہ منسوخ ہے، پس اس میں یہ اضافہ نہیں، پس وہ اس کے منکر ہونے کی دلیل ہے۔ (منہ).