کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 508
۴۷: ان میں سے بعض کا اعتقاد کہ جب کسی نیک شخص کا جنازہ ہو تو وہ اٹھانے والوں پر بوجھل نہیں ہوتا اور وہ تیز ہوتا ہے: ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۳/ ۴۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۴۷)۔ ۴۸: جنازے کے ساتھ صدقہ نکالنا، ملٹھی اور لیمن وغیرہ کا مشروب (شکنجبین) پلانا اسی زمرے سے ہے: ’’الاختیارات العلمیۃ‘‘ (ص۵۳)، ’’کشاف القناع‘‘ (۲/ ۱۳۴)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۳/ ۴۸) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۴۸)۔ ۴۹: جنازے کو دائیں طرف سے اٹھانے میں پہل کرنے کی پابندی کرنا: ’’المدونۃ‘‘ (۱۷۶)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۳/ ۴۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۴۹) ۔ ۵۰: جنازے کی چاروں اطراف میں سے ہر طرف سے دس دس قدم اٹھانا: [1] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۳/ ۵۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۵۰)۔ ۵۱ ا: جنازے کو سست روی سے لے کر جانا: ’’الباعث‘‘ لأبی شامۃ (ص ۵۱، ۶۷)، ’’زاد المعاد‘‘ (۱/ ۲۹۹)، ’’الامر بالاتباع‘‘ (ص ۲۵۱)، السیوطی ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۴/ ۵۱)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/۵۱)۔ ۵۱ ب: لوگوں کا جنازے کے ساتھ قدم قدم (آہستہ آہستہ) چلنا: [2] ہمارے شیخ رحمہما اللہ نے ’’أحکام الجنائز‘‘ (۹۴) اور ’’تلخیص الجنائز‘‘ (ص ۴۰) میں بیان کیا: نووی نے ’’المجموع‘‘ (۵/ ۲۷۱) میں بیان فرمایا:
[1] بعض فقہاء نے اس کے لیے ایک حدیث سے استدلال کیا ہے: ’’جو کسی جنازے کو چالیس قدم اٹھاتا ہے اس کے چالیس بڑے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اسے ’’البدائع‘‘ کے حوالے سے ’’البحر الرائق‘‘ (۲/ ۲۰۷-۲۰۸) میں نقل کیا ہے۔ اور ’’شرح المنیۃ‘‘ میں: ’’ابوبکر النجاد‘‘ نے اسے روایت کیا ہے‘‘ جیسا کہ الحاشیۃ (۱/ ۸۳۳) میں ہے، وہ اسی طرح ایک دوسرے سے نقل کرتے ہیں اور وہ حدیث کی حالت کی طرف اشارہ نہیں کرتے، اور وہ صحیح نہیں، کیونکہ اس میں علی بن ابو سارہ ہے، اور وہ ضعیف ہے اور یہ منکر روایات میں سے ہے، جیسا کہ ذہبی نے کہا ہے، اسی لیے ہم نے اسے ’’الجامع الصغیر‘‘ کی موضوعات میں شامل کیا ہے، اس کے باوجود وہ حدیث اس بدعت پر دلالت نہیں کرتی۔ اس پر متنبہ رہیں۔ (منہ). [2] یہ بدعت جنازے کے ساتھ تیز تیز چلنے کا حکم دینے والی احادیث کے منافی ہے، خواہ صالح ہو یا غیر صالح: ’’احکام الجنائز‘‘ (ص ۹۳) کا مسئلہ (۴۹) دیکھیں.