کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 506
۳۵: جنازہ کے غسل اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے وقت بلند آواز سے ذکر کرنا:
الخادمی فی ’’شرح الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۴/ ۲۲)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۱/ ۳۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۵) ۔
۳۶: خاتون کو غسل دیتے وقت اس کے بالوں کو اس کی چھاتی پر ڈال دینا:
(مسئلہ ۲۸ میں ام عطیہ کی روایت دیکھیں) [1] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۱/ ۳۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۶)۔
چہارم:… کفن اور جنازے کے ساتھ جانے کی بدعات
۳۷: میت کو صالحین جیسے اہل بیت وغیرہ کی قبروں کے پاس دفنانے کے لیے اسے دور دراز جگہوں پر لے جانا:
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۲/ ۳۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۳۷)۔
۳۸: ان میں سے بعض کا یوں کہنا: مردے اپنی قبروں میں اچھے کفنوں کی وجہ سے باہم فخر کرتے ہیں، اور وہ اس کی تعلیل کرتے ہیں۔ جس مردے کا کفن اچھا نہ ہو تو وہ (دوسرے مردے) اس وجہ سے اسے عار دلاتے ہیں: [2]
’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۷۷)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۲/ ۳۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۳۸)۔
۳۹: اگر تربت حسین علیہ السلام مل جائے تو اس کے ساتھ میت کا نام لکھنا اور یہ لکھنا کہ وہ شہادتین کی گواہی دیتا تھا اور اہل بیت علیہم السلام کے نام لکھنا، اور اسے کفن میں ڈالنا: [3]
’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۲/ ۳۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۳۹)۔
[1] احکام الجنائز ص: ۶۵، ط: المعارف.
[2] میں نے کہا: بعض ضعیف روایات میں اس کے متعلق کچھ مروی ہے، اور ان کے زیادہ قریب جابر کی روایت ہے: ’’اپنے مردوں کے کفن اچھے بناؤ، کیونکہ وہ ان کی وجہ سے اپنی قبروں میں باہم فخر کرتے اور ملاقات کرتے ہیں۔‘‘ اسے دیلمی نے روایت کیا، اس کی سند میں ایک جماعت ہے میں انہیں نہیں جانتا، اسی طرح کی دو اور حدیثیں ہیں، ابن الجوزی نے انہیں ’’الموضوعات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ السیوطی نے ’’اللآلی‘‘ (۲/ ۲۳۴) میں اس کی علمی گرفت کی ہے، جوکہ نفع مند نہیں۔ اس کا ’’الصحیحۃ‘‘ (۳۲۵) سے موازنہ کریں۔ (منہ).
[3] امامیہ کا اس پر عمل ہے، جیسا کہ ’’مفتاح الکرامۃ‘‘ (۱/ ۴۵۵- ۴۵۶) میں ہے۔ (منہ).