کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 505
دن تک دوبارہ نہیں ہوتا۔[1] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۰/ ۲۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۲۹)۔ ۳۰: میت کی وفات کے متعلق اذان دینے کی بلند جگہوں پر اعلان: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۴۵-۲۴۶)، دیکھیں مسئلہ: ۲۲ (فقرہ ز) [2] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۰/ ۳۰)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۰)۔ ۳۱: ان میں سے کسی کا وفات کی خبر دیتے ہوئے یوں کہنا: فلاں کی روح پر فاتحہ: [3] ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۰/ ۳۱) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۱)۔ سوم:… میت کو غسل دینے کی بدعات ۳۲: (صابن کی) ٹکیہ اور پانی کے مگ وغیرہ کو میت کی وفات کے تین دن بعد تک اسی جگہ رکھنا جہاں اسے غسل دیا گیا: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۷۶)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۱/ ۳۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۲)۔ ۳۳: جس جگہ میت کو غسل دیا گیا وہاں تین راتیں غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک چراغاں کرنا: بعض کے نزدیک سات راتیں، جبکہ بعض اس سے بھی بڑھاتے ہیں، اور وہ ایسے ہی اس جگہ بھی کرتے ہیں جہاں اس نے وفات پائی تھی: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۷۶)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۱/ ۳۳)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۳)۔ ۳۴: غسل دینے والے کا ہر عضو دھوتے وقت اذکار میں سے کوئی ذکر کرنا: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۳۲۹)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۱/ ۳۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۸/ ۳۴)
[1] ملا علی القاری نے ’’شرح الفقہ الاکبر‘‘ (ص۹۱) میں اسے نقل کیا، اور اس کا یوں کہہ کر رد کیا: ’’کہ وہ باطل ہے۔‘‘ اور بطلان میں اس سے بھی زیادہ واضح دوسرا قول ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے جمعہ کے دن اور ماہ رمضان میں کافروں سے عذاب ہٹا لیا جاتا ہے۔‘‘ شیخ نے اسے بھی بیان کیا اور اس کا رد کیا۔ (منہ). [2] احکام لجنائز، ص: ۴۴، ط: المعارف. [3] ’’احکام الجنائز‘‘ (ص۴۷) ط۔ المعارف، ہمارے شیخ نے اسی جگہ حاشیے میں بیان کیا: اور جو بیان ہوا، تم جان لو کہ آج بعض علاقوں میں یوں کہنا: ’’فلاں کی روح پر فاتحہ‘‘ مذکورہ سنت کے خلاف ہے، وہ بلا شک بدعت ہے، خاص طور پر قرآن خوانی قول صحیح کے مطابق فوت شدگان تک نہیں پہنچتی، جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل آئے گی.