کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 502
۹: ان میں سے بعض کا اعتقاد کہ انسان جس جگہ فوت ہوتا ہے تو میت کی روح وہاں منڈلاتی رہتی ہے: ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/ ۹) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۹)۔ ۱۰: میت کے پاس رات بھر صبح ہونے تک شمع جلائے رکھنا: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۳۶) ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/ ۱۰) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/ ۱۰) ۱۱: جس کمرے میں وفات ہوئی ہو وہاں سبز شاخ رکھنا: ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/ ۱۱) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/ ۱۱)۔ ۱۲: میت کو غسل دینے تک اس کے پاس قرآن پڑھنا: ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/ ۱۲) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۱۲)۔ ہمارے شیخ نے أحکام الجنائز (ص ۲۴۳) میں فرمایا: شیخ الاسلام نے ’’الاختیارات العلمیۃ‘‘ (ص۵۳) میں فرمایا: ’’میت پر اس کی موت کے بعد قرآن پڑھنا بدعت ہے…‘‘ ۱۳: میت کے ناخن تراشنا اور اس کے زیر ناف بال مونڈنا: امام مالک کی ’’المدونۃ‘‘ (۱/ ۱۸۰)، ’’مدخل‘‘ (۳/ ۲۴۰)، ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/ ۱۳) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۱۳)۔ ۱۴: میت کی پیٹھ، اس کے حلق اور ناک میں روئی داخل کرنا: [1] امام مالک کی ’’المدونۃ‘‘ (۱/ ۱۸۰) ’’مدخل‘‘ (۳/ ۲۴۰) ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۰۹/ ۱۴)، تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۱۴)۔ ۱۵: میت کی آنکھوں پر مٹی ڈالنا اور اس وقت یوں کہنا: ’’انسان کی آنکھ کو صرف مٹی ہی بھرے گی: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۶۱) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۹/ ۱۵)، تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/ ۱۵) ۱۶: اہل میت کا کھانا پینا چھوڑ دینا حتیٰ کہ وہ اس کی تدفین سے فارغ ہو جائیں: ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۷۶) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۹/ ۱۶) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/ ۱۶) ۱۷: صبح وشام رونے کی پابندی:
[1] میں نے کہا: نادر احوال میں جائز ہے، میت میں کوئی بیماری ہے، جس کی وجہ سے وہاں سے کسی چیز کے نکلنے کا اندیشہ ہو جو کفن کو گندا یا پلید کردے۔ (منہ).