کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 501
ہمارے شیخ نے شیخ الاسلام کے کلام کے آخری حصے: ’’قریب المرگ پر قرآن پڑھنا اس کے خلاف ہے (یعنی وہ بدعت نہیں) کیونکہ اس پر سورۂ یس پڑھنامستحب ہے۔‘‘ پر علمی گرفت کرتے ہوئے فرمایا: لیکن سورۂ یس پڑھنے والی روایت ضعیف ہے، [1] جبکہ استحباب ایک شرعی حکم ہے، وہ ضعیف روایت سے ثابت نہیں ہوتا، جیسا کہ وہ ابن تیمیہ کے اپنے کلام سے ان کی بعض تصنیفات میں معلوم ہوتا ہے۔ ۵: قریب المرگ کو قبلہ رخ کرنا: سعید بن مسیب نے اس کا انکار کیا ہے، جیسا کہ ’’المحلی‘‘ (۵/ ۱۷۴) میں ہے، اور مالک نے بھی اس کا انکار کیا جیسا کہ ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۲۹-۲۳۰) میں ہے، اس بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔[2] ’’احکام الجنائز‘‘ (۲۰, ۳۰۷/ ۵) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱, ۹۶/۵)۔ دوم:… وفات کے بعد کی بدعات ۶: شیعہ کا کہنا: معصوم[3] اور شہید کے علاوہ آدمی مرنے سے نجس ہو جاتا ہے، اور جس کا قتل کرنا واجب ہو اس نے اپنے قتل ہونے سے پہلے غسل کر لیا۔ اور بعینہٖ اسی سبب کی وجہ سے اسے قتل کر دیا گیا: [4] (مسئلہ ۳۱ کی حدیث دوم دیکھیں) [5]’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/ ۶) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۶)۔ ۷: حیض و نفاس والی خواتین کو اس (میت) کے پاس سے نکال دینا: ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/۷) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۷)۔ ۸: میت کی روح نکلنے کے وقت جو موجود ہو وہ ہفتہ بھر کوئی کام نہ کرے: ’’المدخل‘‘ لابن الحاج (۳/ ۲۷۶-۲۷۷)۔ ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۰۸/۸) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۷/۸)
[1] دیکھیں، ’’أحکام الجنائز‘‘ (ص ۱۱۔ ط۔ المکتب الاسلامی) اور (ص ۲۰۔ ط۔ المعارف) فائدہ:… ابو زرعہ رازی نے اپنی ’’ضعفاء‘‘ (۶۹۱) میں اس روایت: ’’جس میت پر سورۂ یس پڑھی جائے اس پر آسانی کر دی جاتی ہے‘‘ کے متعلق بیان کیا: ’’یہ روایت منکر ہے، مضطرب ہے، اور اسے نہ پڑھا‘‘ جس نے مسئلے کو تصنیف کیا اس نے یہ نقل کرنا چھوڑ دیا. [2] ہمارے شیخ رحمہما اللہ نے ’’التعلیقات الرضیۃ علی الروضۃ الندیۃ‘‘ (۱/ ۴۲۲) میں بیان کیا: ’’ابن الحاج نے مالک کے حوالے سے ’’المدخل‘‘ (۳/ ۲۲۹- ۲۳۰) میں نقل کیا: ’’قریب المرگ کو قبلہ رخ کرنا لوگوں کا عمل نہ تھا اور انہوں نے اسے مسنون جان کر کرنا مکروہ جانا ہے۔‘‘. [3] یعنی: شیعہ کے ائمہ، کیونکہ وہ ان کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ معصو م ہیں۔ (منہ). [4] مصدر سابق (۱/ ۱۵۳) نے اس پر شیعہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور وہ اس حدیث کے معارض ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (منہ). [5] احکام الجنائز (ص:۷۲ ط: المعارف).