کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 500
جنازوں کی بدعات
اوّل:… وفات سے پہلے کی بدعات
۱: ان میں سے بعض کا اعتقاد کہ شیاطین قریب المرگ شخص کے پاس یہودی اور نصرانی کے روپ میں اس کے والدین کی صورت میں آتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس پر ہر ملت پیش کرتے ہیں تاکہ وہ اسے گمراہ کردیں:
ابن حجر ہتیمی نے سیوطی سے نقل کرتے ہوئے ’’الفتاوٰی الحدیثیۃ‘‘ میں بیان کیا: ’’یہ چیز وارد نہیں‘‘ ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۷/ ۱)، [1] ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۶/ ۱)۔
۲: قریب المرگ شخص کے سرہانے قرآن رکھنا:
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۷/۲)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۶/ ۲)۔
۳: میت کو نبی اور اہل بیت کے ائمہ علیہم السلام کی تلقین کرنا: [2]
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۰۷/ ۳)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۶/ ۳)۔
۴: قریب المرگ پر سورۂ یس پڑھنا: دیکھئے مسئلہ: ۱۵ [3]
’’احکام الجنائز‘‘ (۲۰، ۳۰۷/ ۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۱، ۹۶/ ۴)۔
قریب المرگ شخص کے پاس سورۂ یس پڑھنے کے استحباب کے مسئلے کی تفصیل:
ہمارے شیخ رحمہما اللہ نے ’’احکام الجنائز‘‘ (ص ۲۴۳) میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہما اللہ کا کلام نقل کیا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’الاختیارات العلمیۃ‘‘ (ص ۵۳) میں فرمایا:
’’میت پر اس کی موت کے بعد قرآن پڑھنا بدعت ہے، جبکہ قریب المرگ پر پڑھنا اس کے برعکس ہے، کیونکہ (اس پر) سورۂ یس پڑھنا مستحب ہے۔‘‘
[1] پہلا نمبر صفحہ کا جبکہ دوسرا کتاب میں بدعت کا نمبر ہے۔ ’’احکام الجنائز‘‘ کے جس نسخے کو مدنظر رکھا گیا ہے وہ ط: المعارف ہے جیسا کہ مقدمہ میں ہے۔ فائدہ: اس خرافت کو غزال نے ’’کشف علوم الآخرۃ‘‘ میں مشہور کیا، ان سے قرطبی نے ’’التذکرۃ‘‘ میں نقل کیا۔ ابن حجر فتح الباری (۱۱/۴۳۴) میں غزالی کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ’’اس کتاب میں ایسی احادیث بیان کی گئی ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں۔ ان میں سے کسی کی وجہ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔‘‘.
[2] شیعہ کی کتابوں میں سے ’’مفتاح الکرامۃ‘‘ (۱/ ۴۰۸) دیکھیں۔ (منہ).
[3] ص: ۲۰ از احکام الجنائز، ط: المعارف.