کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 495
۶۸: بعض چھوٹی مساجد میں جمعہ کے دن نمازیوں کو گننا کہ آیا وہ چالیس ہیں:
’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۰/ ۶۸)۔
۶۹: چھوٹی مساجد میں جمعہ کا اہتمام:
’’اصلاح المساجد‘‘ (۶۳)[1]
۷۰: امام کا صفیں درست ہونے سے پہلے نماز شروع کر دینا:
’’ اصلاح المساجد‘‘ (۹۹۔ ۱۰۰)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۱/ ۷۰)۔
۷۱: نماز کے بعد ہاتھ چومنا:
’’اصلاح المساجد‘‘ (۹۹)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۱/ ۱۷)۔
۷۲: جمعہ کے بعد یوں کہنا۔ ’’اللہ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے: [2]
’’السنن‘‘ (۵۴)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۱/ ۷۲)۔
۷۳: جمعہ کے بعد نماز ظہر: [3]
(’’السنن‘‘ (۱۰ اور ۱۲۳)، ’’اصلاح المساجد‘‘ (۵۱۔ ۵۳)، ’’المنار‘‘ (۲۳/ ۲۵۹‘ ۴۹۷‘ ۳۴/ ۱۲۰)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۹‘ ۱۳۲/ ۷۳)۔
[1] میں نے کہا: قاسمی رحمہ اللہ کی بحث بہت ہی اہم ہے۔ انہوں نے اس میں بیان کیا: ’’ جمعہ کا اس کے کثرت تعداد کی وجہ سے اس کے موضوع سے خروج‘‘ سبکی کا اس مسئلہ میں۔ ’’الاعتصام بالواحد الاحد من اقامۃ جمعتین فی بلد‘‘ کے عنوان کے ایک رسالہ ہے۔ انہوں نے اس میں بیان کیا: ’’عدم ضرورت کے وقت جمعہ کی زیادہ نمازیں منکر ہیں دین اسلام میں ضرورت کے تحت معروف ہے۔‘‘ (فتاویٰ: ۱/ ۱۹۰) قاسمی نے اپنی بحث یہاں ختم کی مناسب یہی ہے کہ:
’’ہر چھوٹی مسجد میں جمعہ کا اہتمام کرنا ترک کردیا جائے۔ خواہ وہ گھروں کے درمیان ہو یا شاہراہوں پر‘ اور ہر بڑی مسجد اس سے اپنے علاوہ کسی اور چھوٹی مسجد سے بے نیاز کردیتی ہے۔ اور یہ کہ بڑے محلے کے باسیوں کو اس کی سب سے بڑی مسجد میں جمع کیا جائے۔ اور ہر بڑے محلے کو ایک الگ گاؤں کی طرح فرض کیا جائے۔ تو اس کے ذریعے بہت سی زائد مساجد سے بے نیاز ہوا جاسکتا ہے۔ اور ان جوامع میں بڑے اچھے حال وانداز میں شعار کا اظہار ہوتا ہے۔ پس تعدد کے مسئلے سے بھی نکلا جاسکتا ہے۔
میں نے کہا: یہ وہ حق ہے جسے سنت کا فہم رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے جمعہ وجماعت میں غور کریں جیسا کہ اس مسئلے پر رسالے ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (ص ۸۰) میں ’’أحکام الجمعۃ‘‘ میں کلام کے بارے میں مجھے آگاہی حاصل ہوئی تھی۔ واللّٰہ الموفق۔ (منہ).
[2] میں نے کہا: رہی وہ حدیث ’’جو شخص جمعہ پڑھ کر اپنے بھائی سے ملے‘ تو وہ یہ کہے: اللہ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے۔ بے شک وہ ایک فریضہ ہے جسے تم نے اپنے رب تک پہنچایا ہے۔ ’’سیوطی نے اسے ’’ذیل الاحادیث الموضوعۃ‘‘ میں بیان کیا‘ اور انہوں نے (ص ۱۱۱) بیان کیا: ’’اس میں نہشل ہے‘ اور وہ کذاب ہے۔‘‘ (منہ).
[3] اس مسئلے میں شیخ مصطفی الغلادیینی کا ایک مفید رسالہ ہے۔ اس کا نام ہے: ’’البدعۃ فی صلاۃ الظہر بعد الجمعۃ‘‘۔ اسے کئی اقساط میں مجلہ ’’المنار‘‘ میں نشر کیا گیا ہے۔ اسے (۷/ ۹۴۱۔ ۹۴۸) میں دیکھیں۔ اسے علیحدہ کتابچے کی شکل میں بھی طبع کیا گیا ہوگا۔ (منہ).