کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 494
’’شرح الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۳/ ۳۲۳)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۸/ ۶۰)۔
۶۱: خطبے میں ترنم: ’’الابداع‘‘ (۲۷)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۸/ ۶۱)۔
۶۲: خطیب کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا: [1]
’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۸/ ۶۲)۔
۶۳/ ا: لوگوں کا اس (خطیب) کی دعا پر آمین کہنے کے لئے ہاتھ اٹھانا: [2]
’’الباعث‘‘ (۶۴‘ ۶۵)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۹/ ۶۳)۔
۶۳/ب: جمعہ کے دوسرے خطبے میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا‘ ہم اس کی سنت میں اصل نہیں پاتے: [3]
’’مختصر صحیح البخاری‘‘ (۱/ ۲۸۲)
۶۴: خطبے کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ﴾ (النحل: ۹۰) یا اس فرمان : ﴿اذْ کُرُوا اللّٰہَ یَذْکُرْکُمْ﴾ کے ساتھ اختتام کرنے کی پابندی کرنا:
’’المدخل‘‘ (۲/ ۲۷۱)، ’’السنن‘‘ (۵۷)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۹/ ۶۴)۔
۶۵: لمبا خطبہ اور چھوٹی نماز : [4]
’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۹/ ۶۵)۔
۶۶: خطیب جب منبر سے اترے تو اس کے کندھے اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا:
’’الابداع‘‘ (۷۹)، ’’إصلاح المساجد‘‘ (۷۸)، ’’السنن‘‘ (۵۴)، ’’نورالبیان‘‘ (۴۴)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۰/ ۶۶)۔
۶۷: منبر کبیر جسے وہ خطیب کے خطبے سے فارغ ہو جانے کے بعد کسی کمرے میں داخل کردیتے ہیں:
’’المدخل‘‘ (۲/ ۲۱۲)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۰/ ۶۷)۔
[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’الاختیارات العلمیۃ‘‘ (۴۸) میں بیان کیا۔ ’’امام کا خطبے کے دوران دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے‘ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تھے تو آپ صرف اپنی انگلی سے اشارہ کیا کرتے تھے۔ (منہ).
[2] میں کہتا ہوں: ’’ابن عابدین نے ’’الحاشیۃ‘‘ (۱/ ۷۸۸) میں بیان کیا‘ جب انہوں نے یہ کیا تو صحیح بات یہ ہے کہ وہ گناہ گار ہوئے ہیں۔(منہ).
[3] ط: المعارف، اور (۱/۲۲۴) ط: المکتب الاسلامی.
[4] میں نے کہا: کیونکہ سنت تو لمبی نماز اور چھوٹا خطبہ ہے… اس کے برعکس‘ (جیسا کہ آج اکثر خطباء کی عادت ہے) اس کے بدعت ہونے میں کوئی شک نہیں، ’’در مختار‘‘ (۱/ ۷۵۸۔ الحاشیۃ) میں اس طرح نقل ہوا ہے: ’’جمعہ کے دو خطبوں کا طوال مفصل کی کسی ایک سورت سے طویل ہونا مکروہ ہے۔‘‘ (منہ).