کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 491
خطبوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: اما بعد‘ فان خیر الکلام کلام اللہ‘‘[1]سے اعراض:
’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۳/ ۳۶)۔
۳۷: خطباء کا اپنے خطبوں میں سورۂ ق کے ذریعے وعظ ونصیحت سے اعراض‘ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مسلسل عمل کیا:
’’السنن‘‘ (۵۷)[2] ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۴/ ۳۷)۔
۳۸: جمعہ کے دن خطباء کا خطبہ کے آخر پر کسی حدیث کو ہمیشہ پڑھنا جیسا کہ اس حدیث کو پڑھنا۔ ’’گناہ سے توبہ کرنے والا اس طرح ہے جس طرح اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو: [3]
’’السنن‘‘ (۵۶)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۴/ ۳۸)۔
۳۹: اس دور میں پہلے خطبے سے فارغ ہونے کے بعد بعض خطباء کا سلام کرنا:
’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۴/ ۳۹)۔
۴۰: ان کا دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے دوران تین مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنا:
’’السنن‘‘ (۵۶)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۴/ ۴۰)۔
۴۱: بعض حاضرین کا دوسرے خطبے کے دوران کھڑے ہوکر تحیۃ المسجد پڑھنا:
’’المنار‘‘ (۱۸/ ۵۵۹)، ’’السنن‘‘ (۵۱)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۴/ ۴۱)۔
۴۲: امام کے دو خطبوں کے درمیان منبر پر بیٹھنے کے وقت لوگوں کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا:
’’المنار‘‘ (۶/ ۷۹۳- ۷۹۴‘ ۱۸/ ۵۵۹)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۴/ ۴۲)۔
۴۳: دوسرے خطبے میں خطیب کا نچلے زینے پر آنا‘ اور پھر اوپر چڑھنا:
’’حاشیہ ابن عابدین‘‘ (۱/ ۷۷۰)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۴/ ۴۳)۔
۴۴: دوسرے خطبے میں جلدی کرنے میں خطباء کا مبالغہ:
’’المنار‘‘ (۱۸/ ۵۵۸)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۵/ ۴۴)۔
۴۵: خطیب کے ان الفاظ : میں تمہیں حکم دیتا ہوں‘ میں تمہیں روکتا ہوں‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے وقت دائیں
[1] ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (ص ۹۶- ۱۰۰) دیکھیں (منہ) اور ’’اذکار کی بدعات‘‘ میں بھی آئے گا۔ (تیسری بات: شرعی الفاظ پر اضافہ یا ان میں سے کسی چیز کو بدل دینا) وغیرہ: (۳۔ خطبہ حاجت میں نستہدیہ کا اضافہ) اسے وہاں دیکھیں۔ واللّٰہ الموفق.
[2] ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (ص ۱۰۱) پر دیکھیں۔ (منہ).
[3] یہ روایت حسن ہے‘ ’’الضعیفۃ‘‘ حدیث رقم ۶۱۵‘ ۶۱۶ کے تحت دیکھیں۔ (منہ).