کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 489
’’المنار‘‘ (۳۱/۲۷۴)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۱/۲۴)۔
۲۵: خطیب کا منبر پر چڑھتے وقت منبر کے زینوں کو اپنی تلوار کے نچلے حصے سے مارنا:
’’الباعث‘‘ (۶۴)، ’’المدخل‘‘ (۲/۲۶۷)، ’’إصلاح المساجد‘‘ (۵۰)، ’’المنار‘‘ (۱۸/۵۵۸)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۱/۲۵)۔
۲۶: خطیب کی منبر پر ہر ضرب کے وقت مؤذنین کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ پڑھنا:
’’المدخل‘‘ (۲/۲۵۰، ۲۶۷)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۱/۲۶)۔
۲۷: مؤذنین کے رئیس کا امام کے ساتھ منبر پر چڑھنا‘ اگرچہ وہ اس کے پیچھے بیٹھتا ہے۔ اور اس کا کہنا: آمین اللھم آمین‘ جو آمین کہتا ہے اللہ اسی کی مغفرت فرمائے‘ اے اللہ: اس پر رحمتیں نازل فرما…
’’المدخل‘‘ (۲/ ۲۶۸)۔ ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۳۱/ ۲۷)۔
۲۸: امام جب منبر پر چڑھتا ہے تو اس کا لوگوں کی طرف رخ کرنے اور انہیں سلام کرنے سے پہلے قبلہ رخ ہوکر دعا کرتے رہنا:
’’الباعث‘‘ (۶۴)۔ ’’المدخل‘‘ (۲/ ۲۶۷)۔ ’’إصلاح المساجد‘‘ (۵۰)، ’’المنار‘‘ (۱۸/ ۵۵۸)۔ [1] ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۱/ ۲۸)۔
۲۹: خطیب کا لوگوں کے سامنے آکر سلام نہ کرنا:
’’المدخل‘‘ (۲۲/ ۱۶۶)۔ ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۲/ ۲۹)۔
۳۰: خطیب کے سامنے مسجد کے اندر دوسری اذان:
امام شاطبی کی ’’الاعتصام‘‘ (۲/ ۲۰۷- ۲۰۸)۔ ’’المنار‘‘ (۱۹/ ۵۴۰)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۲۸- ۳۱)۔ ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۵،۱۲۳/ ۳۰)۔
قاسمی نے امام ابن زروق سے ان کی بدعات کے بارے میں کتاب ’’عمدۃ المرید‘‘ [2] میں ’’اصلاح المساجد‘‘ (۱۳۲) میں نقل کرتے ہوئے کہا:
’’…اذان مشروع کے خطیب کے سامنے ایک مرتبہ ہونے کی وجہ سے وہ (دوسری اذان) بدعت ہے [3] وہ
[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’الاختیارات‘‘ (۴۸) میں بیان کیا: امام کا منبر پر چڑھ جانے کے بعد دعا کرنا اس کی کوئی اصل نہیں۔‘‘ (منہ).
[2] اس کا نام ہے ’’عدۃ المرید الصادق من اسباب المقت فی بیان الطریق القصد وذکر حوادث الوقت‘‘ اور وہ اس نام ’’النہی عن الحوادث والبدع‘‘ سے بھی معروف ہے۔وہ استاذ ادریس عزوزی کی تحقیق سے وزارۃ الاوقاف المغربیۃ کی جانب سے ۱۴۱۹ھ میں شائع ہوئی.
[3] اس کتاب کا حرف ’واؤ‘ دیکھیں: ’بعض مساجد میں خطیب کے سامنے دو موذنوں کا موجود ہونے‘ کی بدعت.