کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 488
’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۹/۱۹)
۲۰: پھر وہ حدیث: ’’جب تم نے اپنے ساتھ والے سے کہا…‘‘ خطیب کے آنے (خروج) کے وقت اذان دینے والوں کا بلند آواز سے اس طرح کہنا حتیٰ کہ وہ منبر تک پہنچ جائے‘‘[1]
’’المدخل‘‘ (۲/۲۶۶)، ’’شرح الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۱/۱۱۴،۱۱۵، ۴/۳۲۳)، ’’المنار‘‘ (۵/۹۵۱، ۱۹/۵۴۱)، ’’الإبداع‘‘ (۷۵)، ’’السنن‘‘ (۲۴)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۹/۲۰)۔
۲۱: منبر کے تین سے زیادہ زینے بنانا: [2]
’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۰/۲۱)، ’’صفۃ الصلاۃ‘‘ (ص۸۱)، ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/۴۱۳۔۴۱۴)۔[3]
۲۲: امام کا منبر کے سب سے نچلے حصے کے پاس کھڑے ہوکر دعا کرنا:
’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۰/۲۲)۔
۲۳: امام کا منبر پر کھڑا ہونے میں تاخیر کرنا:
’’الباعث‘‘ (۶۴)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۲۱/۲۳)۔
قاسمی رحمہ اللہ نے ’’إصلاح المساجد‘‘ (ص۶۵) میں بیان کیا:
’’…اذان کے بعد خطیب تھوڑی دیر بیٹھا رہے گا، پھر کھڑا ہوگا تو خطبہ دے گا…‘‘
شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’إصلاح المساجد‘‘ (ص۶۵) کے حاشیے میں فرمایا:
’’یہ (اذان کے بعد) ٹھہرنا سنت سے ثابت نہیں، پس آگاہ رہیں۔‘‘
۲۴: جس وقت خطیب منبر پر چڑھتا ہے یا اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار (نعت) پڑھنا:
[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’الاختیارات‘‘ (ص۴۸) میں بیان کیا: ’’وہ بالاتفاق مکروہ یا حرام ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’الباعث‘‘ (ص۶۵) کے مؤلف کے اس بدعت کو استحسان کہنے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، وہ عالم کی لغزش ہے۔ (منہ) ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ کی بدعت رقم ۳۲ دیکھیں۔ وہ عنقریب بیان ہوگی.
[2] جو معاویہ کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے سب سے پہلے منبر کی پندرہ سیڑھیاں بنائیں جیسا کہ التراتیب الاداریۃ (۲/ ۴۴۰) نے ذکر کیا ہے، مگر یہ ثابت نہیں، ’کہا گیا‘ سے بھی اس کا اشارہ نکلتا ہے۔ اس بدعت کا نقصان یہ ہے کہ اس سے صفیں کٹ جاتی ہیں۔ بعض ائمہ مساجد اس بات پر متنبہ ہوئے تو انہوں نے ایک اور نئے طریقے پر انہیں بنانا شروع کردیا۔ جیسے ان سیڑھیوں کو دیوار کی طرف بنانا وغیرہ، اگر وہ سنت کی پیروی کرتے تو انہیں چین ملتا۔ (منہ).
[3] تفصیل کے لیے اس کتاب میں ’مساجد کی بدعات‘ (ص: ۴۴۲) کی بحث کے تحت ’منبر کی تین سے زیادہ سیڑھیوں کی بدعت‘ کا عنوان دیکھیں.