کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 483
اور تعداد مقرر نہیں، کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہو سکتی ہیں یا آپ کے فعل سے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں اپنے قول سے کوئی طریقہ مقرر کیا نہ فعل سے، یہ مالک، شافعی اور ان کے اکثر پیروکاروں کا مذہب ہے، اور وہ احمد کے مذہب میں مشہور ہے۔‘‘[1] العراقی نے کہا: ’’میں نے تین ائمہ کے حوالے سے نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس (جمعہ) سے پہلے کی سنتوں کو مندوب قرار دیا ہو۔‘‘[2] پھر ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ابوشامہ کے حوالے سے ’’الباعث علی إنکار البدع والحوادث‘‘ (ص۷۰) میں ان کا قول نقل کیا ہے، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (ص۶۲۔۶۳) میں ہے: ’’…پھر اس کی صحت پر دلیل کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن اپنے گھر سے تشریف لاتے تو اپنے منبر پر چڑھ جاتے، پھر مؤذن اذان دیتا، جب وہ فارغ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ شروع کرتے، اگر جمعہ سے پہلے سنتیں ہوتیں تو آپ اذان کے بعد انھیں سنتیں پڑھنے کا حکم فرماتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی انھیں پڑھتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس اذان کے علاوہ کوئی اور اذان نہ تھی، اور مالکیہ کا اب تک یہی مسلک ہے۔‘‘ پھر ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اسی مصدر (ص ۶۳۔۶۹) میں بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درج ذیل فرمان اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ جمعہ سے پہلے کوئی سنتیں نہیں: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو وہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔‘‘[3] اگر اس (جمعہ) سے پہلے سنتیں ہوتیں تو آپ انہیں اس حدیث میں بعد والی سنتوں کے ساتھ ہی ذکر کرتے اور ان کے ذکر کے لیے یہ جگہ زیادہ لائق تھی۔
[1] شیخ الاسلام ابوالعباس تقی الدین ابن تیمیہ نے ’’الفتاوی‘‘ (۱/۱۳۶) میں اور ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۱۶۷۔۱۶۸) میں۔ (منہ) میں نے کہا: ہمارے بعض معاصر نے شیخ الاسلام کے قول کو جمعہ سے پہلے کی سنتوں پر چسپاں کردیا اور اسے ایک جزء میں نشر کیا. [2] المناوی نے ’’فیض القدیر‘‘ میں بیان کیا: اسی لیے اس سنت مزعومہ کا امام شافعی کی کتاب ’’الأم‘‘ میں ذکر وارد ہوا نہ امام احمد کے ’’المسائل‘‘ میں اور نہ ان کے علاوہ پہلے ائمہ کی طرف سے جہاں تک مجھے معلوم ہے، اسی لیے میں کہتا ہوں: وہ لوگ جو یہ سنتیں پڑھتے ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نہ انہوں نے ائمہ کی تقلید کی، بلکہ انہوں نے متاخرین کی تقلید کی، جو مجتہد ہونے کے علاوہ مقلد ہونے میں ان جیسے ہیں، پس اس مقلد پر تعجب ہے جو کسی مقلد کی تقلید کرتا ہے!! (منہ). [3] صحیح مسلم، رقم :۸۸۱)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (ص۶۳۔۶۴) میں اس کی تخریج دیکھیں.