کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 477
’’المدخل‘‘ (۲/۱۲۴)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۶/۴)
۵: جمعہ کے دن مختلف قسم کے اذکار:
’’المدخل‘‘ (۲/۲۵۸۔۲۵۹)، الإبداع فی مضار الإبتداع‘‘ (ص۶۷)، ’’مجلۃ المنار‘‘ (۳۱/۵۷)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۶/۵)۔
۶: جمعہ کے دن جماعت کی اذان:
’’المدخل‘‘ (۲/۲۰۸)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۶/۶)
۷: جمعہ کے دن مسجد کے صحن میں مقرر مؤذن کے ساتھ اذان دینے والوں کا اذان دینا:
’’الاختیارات العلمیۃ‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیۃ (ص۲۲) ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۷/۷)
۸: اس دوسری اذان میں کسی ایک میں اس طرح اضافہ کرنا کہ دوسرے مؤذن کو لایا جائے وہ پہلے کی اذان کا جواب دینے والے کی طرح چبوترے پر اذان دے:
’’الإبداع‘‘ (۷۵)، ’’المدخل‘‘ (۲/۲۰۸)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۷/۸)
۹: مؤذن کا جمعہ کے دن اذان اوّل کے بعد بلند جگہ پر چڑھنا تاکہ وہ گاؤں والوں کو آنے کے لیے اور چالیس کی تعداد مکمل کرنے کے لیے آواز دے:
’’إصلاح المساجد عن البدع والعوائد‘‘ (۶۹)، ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۷/۹)
۱۰: جس وقت لوگ نماز جمعہ کے لیے اکٹھے ہوں اس وقت پارے پڑھنے کے لیے لوگوں میں تقسیم کرنا، جب اذان کا وقت ہو تو وہی شخص جس نے وہ پارے تقسیم کیے کھڑا ہو تاکہ وہ ان پاروں کو اکٹھا کرے:
’’المدخل‘‘ (۲/۲۲۳)، ’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۸/۱۰)
۱۱: جمعہ کے دن کسی صالح شخص کے لیے لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی اس دعویٰ کی بنا پر اجازت دینا کہ وہ اس سے تبرک حاصل کرے گا: [1]
’’الاجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۸/۱۱)
۱۲: جمعہ سے پہلے کی سنت کی نماز: [2]
[1] الباجوری (۱/۲۲۷) نے بیان کیا: امام اور صالح شخص کے لیے گردنیں پھلانگنا مکروہ نہیں، کیونکہ ان دونوں سے برکت حاصل کی جاتی ہے، اور لوگ ان دونوں کی گردنیں پھلانگنے کی وجہ سے تکلیف محسوس نہیں کرتے، ان میں سے بعض نے صالح آدمی کے ساتھ عظیم آدمی ملایا ہے (خواہ دنیوی اعتبار سے) کیونکہ لوگ اس کی گردنیں پھلانگنے کی اجازت دیتے ہیں اور وہ اس سے تکلیف محسوس نہیں کرتے۔‘‘ (منہ).
[2] ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اس مسئلے کو اپنے رسالے ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (ص ۴۶۔۷۰) میں بڑی ہی تفصیل سے بیان کیا ہے، انہوں نے اس مسئلے کا کئی وجوہ سے مناقشہ کیا ہے اور ان احادیث پر تنبیہ کی ہے جو اس سنت میں صحیح نہیں، اس مسئلے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، پھر انہوں نے اس کے عدم مشروع ہونے کو ترجیح دی.