کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 476
فصل: جمعہ کی بدعات ۱: جمعہ کے دن ترک سفر کی وجہ سے بندگی، عبادت گزاری: [1] ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۵/۱)[2] ۲: جمعہ کو یوم تعطیل قرار دینا: ’’الإحیاء‘‘ (۱/۱۶۹) ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۶/۲) ۳: اس روز بعض معاصی کے ذریعے زیب و زینت اختیار کرنا، جیسے داڑھی مونڈنا، ریشم اور سونا پہننا: ’’الأجوبۃ النافعۃ‘‘ (۱۱۶/۳)۔ ۴: ان میں سے بعض کا جمعہ کے دن یا کسی اور دن مسجد میں جانے سے پہلے مسجد میں دریاں بھیجنا: [3]
[1] ابن ابی شیبہ نے صالح بن کیسان کے حوالے سے ’’المصنف‘‘ (۱/۲۰۵/۱) میں روایت کیا کہ ابوعبیدہ جمعہ کے دن سفر پر روانہ ہوئے اور انہوں نے جمعہ کا انتظار نہ کیا۔ اس کی اسناد جید ہے۔ انہوں نے اور امام محمد بن الحسن نے ’’السیر الکبیر‘‘ (۱/۵۰) میں اور بیہقی نے (۳/۱۸۷) عمر سے روایت کیا، کہ انہوں نے فرمایا: ’’جمعہ سفر سے نہیں روکتا۔‘‘ اس کی سند صحیح ہے۔ پھر ابن ابی شیبہ نے سلف کی ایک جماعت سے اسی کی مانند روایت کیا۔ رہی یہ حدیث: ’’جس نے جمعہ کے دن فجر کے بعد سفر کیا، اس کے لیے دو فرشتے بددعا کرتے ہیں…‘‘ تو وہ ضعیف ہے، جیسا کہ میں نے اسے ’’الاحادیث الضعیفۃ‘‘ (۲۱۸، ۲۱۹) میں بیان کیا ہے۔ اور رہا شیخ البجیرمی کا ’’الإقناع‘‘ (/۱۷۷) میں یوں بیان کرنا کہ ’’وہ صحیح ہے‘‘ اس کا بالکل کوئی مقام نہیں، خاص طور پر یہ کہ وہ اہل الحدیث میں سے نہیں، پس اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ (منہ) قاسمی رحمہ اللہ نے ’’إصلاح المساجد‘‘ (ص۱۱۸) میں بیان کیا: ’’لیکن جمعرات، ہفتہ اور سوموار کے دن سفر کرنا مستحب ہے، جبکہ دیگر ایام کے متعلق کوئی ممانعت نہیں! سوائے جمعہ کے دن کے جب کہ وہ سفر کی وجہ سے جمعہ نہ پڑھ سکے، پس اسی میں علماء کے درمیان نزاع ہے۔‘‘ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’إصلاح المساجد‘‘ (ص۱۱۸) کے حاشیے میں اس کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں نے کہا: جو شخص جمعہ کے فوت ہوجانے کا قصد نہ رکھتا ہو اس کے لیے جمعہ کے دن سفر کرنے کا جواز راجح ہے، عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’سفر کے لیے نکل کیونکہ جمعہ سفر سے نہیں روکتا۔‘‘ ان سے اس کی ممانعت کے بارے میں کوئی صحیح ثابت نہیں۔ دیکھیں: ’’الضعیفۃ‘‘ (۲۱۸،۲۱۹). [2] (۱۱۵/۱) میں رقم اوّل یعنی (۱۱۵) صفحہ کا ہے اور رقم دوم یعنی (۱) کتاب میں بدعت کے نمبر کو ظاہر کرنا ہے۔ ’’الاجوبۃ‘‘ کا جو نسخہ مدنظر رکھا گیا ہے وہ ’’المعارف‘‘ کا ہے۔ جیسا کہ مقدمہ میں بیان کیا گیا. [3] شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’ الفتاویٰ‘‘ (۲/۳۹) میں بیان کیا: ’’یہ بالاتفاق ممنوع ہے۔‘‘ (منہ).