کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 472
میں اسراف اور مال کا ضیاع ہے اور اس پر قطعی دلالت ہے کہ دور حاضر میں اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اذان دینے والے اس پر قطعاً نہیں چڑھتے، وہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اس سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔[1]
۱۳: ایک محلے میں کثرت مساجد
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے اپنی علمی کتاب ’’الثمر المستطاب فی فقہ السنۃ والکتاب‘‘ (۱/۴۵۰۔۴۵۱) میں بیان فرمایا:
ابن حزم نے ابن عباس کی روایت… ’’مجھے مساجد کو پختہ / چونا گچ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔‘‘ [2] نقل کرنے کے بعد بیان کیا (۴/۴۴):
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جگہ مساجد بنانے کا حکم نہیں دیا، اور آپ نے محلوں میں مساجد بنانے کا حکم فرمایا ہے، یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جس کے متعلق آپ نے حکم فرمایا ہے، جب یہ اسی طرح ہے تو مساجد کی تعمیر ثابت ہوئی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم اور اپنے فعل سے اسے بیان کیا، اور وہ اس کا محلوں میں بنانا ہے جیسا کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا، اور ’’الدور‘‘ سے مراد محلے ہیں…‘‘
انہوں نے بیان کیا: ’’اسی طرح جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں جو ہر محلہ والوں کے لیے مسجد بنائی جس میں انھیں اپنے مؤذن کی اذان سن کر پانچوں نمازوں میں مسجد جانے میں کوئی حرج و تنگی نہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام نہیں کیا اس پر کمی بیشی کرنا باطل ومنکر ہے، جبکہ منکر بدلنا واجب ہے…‘‘
انہوں نے کہا: ’’ابن مسعود نے اس مسجد کو گرا دیا تھا جسے عمرو بن عتبہ نے کوفہ کے بالائی حصہ میں بنایا تھا اور اسے مسجد جماعت کی طرف لوٹایا تھا۔‘‘[3]
[1] ہمارے شیخ رحمہ اللہ کا ’’الرد علی التعقیب الحثیث‘‘ (ص۹۔۱۰) میں گنبد یا منارے کے مسئلے کے متعلق شیخ حبشی کے موقف پر مناقشہ دیکھیں.
[2] یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے جیسا کہ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/۴۶۰) میں بیان کیا.
[3] شیخ جمال الدین القاسمی رحمہ اللہ نے ’’إصلاح المساجد من البدع والعوائد‘‘ (ص۱۰۳۔۱۰۴) میں بیان کیا:
سیوطی نے کتاب ’’الامر بالاتباع والنھی عن الابتداع‘‘ میں بیان کیا: ’’ان محدثات میں سے ایک محلے میں کثرت مساجد بھی ہے، اور یہ اس لیے بھی کہ اس میں نمازیوں کے اتفاق و اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے، عبادت میں اشتراک و الحاق کو ختم کرنا ہے، عبادت گزاروں کی رونق کا چلا جانا ہے، متعدد کلمات و آراء اور مختلف مسالک کا ہوجانا ہے اور جماعات کی مشروعیت کی حکمت کا تصادم ہے، میری مراد ادائے عبادات پر یک زبان ہونا، ایک دوسرے کو فائدہ اور معاونت فراہم کرنا، قدیم مسجد کو نقصان پہنچانا یا نقصان کی طرح کا کوئی معاملہ کرنا یا شہرت کی محبت اور ایسے کام میں اموال صرف کرنا ہے جس کی ضرورت نہیں۔‘‘ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے سورۃ الاخلاص (ص۱۷۲۔۱۷۳) کی تفسیر میں مسجد ضرار کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’اسی لیے سلف صالحین ایسی مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ جانتے تھے جو اس (مسجد ضرار) کے مشابہ ہو اور وہ قدیم کو جدید سے افضل سمجھتے تھے، کیونکہ قدیم کے ضرار ہونے کے حوالہ سے اس جدید کے مقابلے میں کوئی اندیشہ نہیں، اور مسجد کا قدیم ہونا قابل تعریف ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ مَحلُّہَا إِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ﴾ (الحج:۳۳) ’’ پھر ان کو خانہ قدیم (بیت اللہ) تک پہنچنا ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّ أَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ﴾ (آل عمران:۹۶) ’’بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ وہ ہے جو مکہ میں ہے۔‘‘ بے شک اس کا قدیم ہونا اس میں کثرت عبادت کا تقاضا کرتا ہے اور یہ زیادہ فضیلت کا متقاضی ہے۔ (منہ).