کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 467
/۴۱۳۔۴۱۴)۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’صفۃ صلوٰۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (ص۸۱) میں فرمایا: منبر کے حوالے سے سنت یہ ہے کہ اس کی تین سیڑھیاں ہوں، زیادہ نہیں، اس سے زائد اموی بدعت ہے، جو زیادہ تر صف درمیان آجانے کی وجہ سے اسے کاٹ دیتے ہیں اور اس سے فرار اسے مسجد یا محراب کے غربی کونے میں بنانا ایک دوسری بدعت ہے، اسی طرح اسے جنوبی دیوار میں گیلری کی طرح اونچا بنانا، دیوار سے متصل زینے کے ذریعے اس تک پہنچا جاتا ہے، جبکہ بہترین طریقہ محمد کا طریقہ ہے‘‘ صلی اللّٰہ علیہ والٰہ وسلم۔ دیکھیں: ’’فتح الباری‘‘ (۲/۳۳۱) اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/۴۱۳۔۴۱۴) میں … امت کی خیر خواہی کے لیے … فرمایا: جو شخص مسجد بنانا چاہے تو وہ جس قدر ہوسکے ستون کم از کم بنائے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں: جو شخص کوئی مسجد یا کوئی جامعہ بنانا چاہے تو وہ انجینئر سے کہے کہ وہ اس کے لیے ایسا نقشہ تیار کرے جس میں ستون کم از کم ہوں، تاکہ ان کے مساجد میں ہونے کی وجہ سے جو صفوں کے قطع ہونے اور نمازیوں کے لیے جگہ کی تنگی ہونے کے مفاسد ومسائل ہیں وہ کم ہوسکیں، کیونکہ دور حاضر میں سیمنٹ اور لوہے (لینٹر) کے ذریعے کسی ستون کے بغیر مسجد بنانا ممکن ہے بشرطیکہ مسجد بہت زیادہ وسیع نہ ہو، دمشق میں اس طرح کی کئی مساجد بنائی گئی ہیں جیسے شارع بغداد پر مسجدلالا باشا، المہاجرین[1] میں جامع المرابط وغیرہ، ان دونوں میں ساری صفیں متصل ہیں سوائے پہلی صفوں کے کیونکہ وہ اس بدعت کی وجہ سے جو کہ تقریباً تمام مساجد میں عام ہوچکی ہے منقطع ہیں جو کہ افسوس ناک ہے، اس سے میری مراد بلند و بالا طویل کئی زینوں والا منبر ہے، وہ بدعت ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہے، آپ کے منبر کے تین زینے تھے، مزید یہ کہ اس میں تزئین، نقش و نگار، اسراف اور مال کا ضیاع ہے[2] تو وہ صفیں قطع کرنے میں ستون کے مانند ہے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ نقصان دہ
[1] مثلاً: اردن (المشیرفۃ) میں مسجد معاویہ بن ابی سفیان، وہ ہمارے شیخ البانی رحمہ اللہ کے مشورے پر بنائی گئی اور وہ اب ’’ مرکز الامام الالبانی للدراسات المنہجیۃ والبحوث العلمیۃ‘‘ کے تابع ہے، اسی طرح مسجد البراء بن مالک جو کہ اس محلے میں ہے جہاں میں رہتا ہوں، وہ بہت بڑی اور وسیع ہے اور اس میں کوئی ستون نہیں، اسی طرح مسجد التقوی۔ جبل النصر، وہ بھی شیخ کے مشورے پر بنائی گئی. [2] شیخ جمال الدین القاسمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’إصلاح المساجد من البدع والعوائد‘‘ میں جو نقل کیا وہ کتنا خوبصورت ہے، انہوں نے (ص۱۰۲۔۱۰۳) میں فرمایا: ’’فاضل نے کہا: نسلوں میں اہل بصر میں سے کون ہے جو ہمت رکھتا ہو کہ یہ جو مساجد کی دیواریں اور قبے بنانے ان کی تزئین میں مبالغے کی حد تک مقابلہ بازی کرتے ہیں اور وہ ان کی زیب و آرائش پر بہت زیادہ مال صرف کرتے ہیں؟ ان حالات میں کون جسارت رکھتا ہے کہ وہ ان عطیہ دینے والوں سے کہے: کہ تم فلک بوس عمارتیں (مساجد) بنارہے ہو یہ عام لوگوں کو بدعات کے شرک میں مبتلاکرنا ہے، اور تم اپنے اموال دین کو ظاہری عبادات میں تبدیل کرنے پر خرچ کرتے ہو جیسا کہ پہلی تمام امتوں میں شرک پھیلا تھا۔ جو عقیدے کے جمال سے معابد کی دیواروں کے جمال میں بدل گیا اور نور ایمان سے بلند عمارتوں کے انوار میں بدل گیا حتیٰ کہ انہوں نے شعائر دین کو ولیموں کے پروگراموں کے مشابہ اور کھانے پینے کے اجتماعات کے زیادہ قریب بنادیا، جو کہ اذہان نقوش و تزئین میں شدت سے مشغول ہوجاتے ہیں اور منبروں کے بنا کرنے اور کھڑکیوں کے ہر دور میں فکر کو مصروف رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان اجتماعات سے قصد عقل کو عالم مادی کے سامان تفریح سے خالی رکھنا اور تزئین و آرائش کے مسحور کن مظہر سے اس (عقل) کو بچانا ہے اور اس مستحکم اجتماع کے پروں پر روح کے ساتھ رحمت قدسیہ کے باب کی طرف جانا ہے، تاکہ تم عبودیت خالص اور خالی ہاتھ سے اس باب رحمت پر دستک دو، تاکہ تم عالم قدس کے نور کے ساتھ اس کے عالم کی طرف واپس آؤ، وہ اسے اس کے جہاد میں ثابت رکھے، اسے اس کی راہ پر قائم رکھے اور اسے دنیا کے فتنوں اور اس کی پھسلنے کی جگہوں سے بچائے، حتیٰ کہ جب وہ اس زندگی میں اپنی ذمہ داری ادا کرے اور وہ اس قوت کے ساتھ جو اس نے کمائی، اپنے عالم کی طرف بلند ہوجائے اور وہ فیض الٰہی کے پردے سے اس حالت میں داخل ہوجائے جو اس کے لیے تیار کی گئی ہے۔ انتہیٰ (منہ).