کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 459
اسے ’’الثمر المستطاب فی فقہ السنۃ والکتاب‘‘[1] میں بیان کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے صدور مجالس مراد ہے، جیسا کہ مناوی نے ’’الفیض‘‘ میں اسے جزم (یقین) کے ساتھ بیان کیا ہے۔
[1] اس کتاب (۱/۴۷۲۔۴۷۸) میں شیخ رحمہ اللہ کا قول ہے: یہ، رہا مسجد میں محراب تو ظاہر ہے کہ وہ بدعت ہے، اس لیے کہ ہمیں ایسا کوئی اثرنہیں ملا جو اس پر دلالت کرتا ہو کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں موجود تھا۔ میں یہ کہتا ہوں: اگرچہ ابن ہمام کا ’’الفتح‘‘ (۱/۲۹۱) میں قول ہم پر مخفی نہیں ’’کہ مساجد میں محاریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بنائے گئے۔‘‘ اس کے لیے سند و معرفت کی ضرورت ہے کہ متقدمین حفاظ و محدثین میں سے کس نے اسے روایت کیا ہے، جبکہ اس نے اس کا ردّ کیاہے جو حفظ میں ابن الہمام سے زیادہ درجے کا ہے، سیوطی نے بیان کیا جسے المناوی نے نقل کیا: ’’لوگوں پر مسجد میں محراب ہونے کی بدعت مخفی رہی، اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا، جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا نہ آپ کے کسی خلیفہ کے دور میں تھا، بلکہ وہ دوسری صدی میں وجود پذیر ہوا حالانکہ اسے بنانے کی ممانعت پر ثبوت بھی موجود ہے۔‘‘ پھر زرکشی کے مشہور قول کی علمی گرفت کی: ’’کہ اسے بنانا جائز ہے مکروہ نہیں اور بلا اعتراض لوگوں کا اس پر مسلسل عمل رہا ہے‘‘ کیونکہ: ’’اس بارے میں مذہب میں کوئی نقل نہیں اور اس سے ممانعت ثابت ہے۔‘‘ گویا کہ وہ یعنی اس نہی (ممانعت) کے متعلق جس کی طرف انہوں نے اشارہ کیا جسے بیہقی نے (۲/۴۳۹) میں اس سند سے روایت کیا ہے: عبد الرحمن بن مغراء عن ابن ابجر، عن نعیم بن ابی ہند، عن سالم بن ابی الجعد، عن عبد اللہ بن عمرو، قال: قال رسول اللہ صلي الله عليه وسلم : ’’اِتَّقُوا ہٰذِہِ الْمَذَابِحَ یعنی: اَلْمَحَارِیْبَ۔ ان مذابح۔ یعنی: محاریب سے بچو۔‘‘ یہ سند حسن ہے، اس کے سارے راوی ثقہ اور مسلم کے راوی ہیں، البتہ عبد الرحمن بن مغراء کی اعمش کے حوالے سے مروی روایت میں کلام کیا گیا ہے، اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ (روایت) ان میں سے نہیں ہے، ذہبی نے ’’المیزان‘‘ میں اس کے سوانح حیات میں بیان کیا: ’’اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، اور الکدیمی نے روایت کیا کہ انہوں نے علی کو بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کچھ بھی نہیں ہم نے اسے ترک کیا ہے، وہ اس قابل نہیں ہے۔‘‘ ابن عدی نے اس کے بعد فرمایا: جو علی نے فرمایا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے انہوں نے فرمایا: انہوں نے ابوزہیر پر اعتراض کیا ہے۔ یہ ابن مغراء کی کنیت ہے۔ وہ اعمش سے احادیث روایت کرتا ہے، ثقہ راوی ان پر اس کی متابعت نہیں کرتے، ابوزرعہ نے کہا: وہ صدوق ہے۔‘‘ میں نے کہا: ابوزرعہ کا یہ قول وہ ہے جس پر حافظ نے ’’التقریب‘‘ میں اعتماد کیا ہے، انہوں نے کہا: ’’صدوق ہے اعمش سے اس کی روایت میں کلام کیا گیا ہے۔‘‘ اور ہیثمی نے ’’المجمع‘‘ (۸/۶۰) میں حدیث کو اس کے الفاظ کے ساتھ روایت کرنے کے بعد کہا: اسے طبرانی نے روایت کیا، اور اس میں عبد اللہ بن مغراء ہے، ابن حبان وغیرہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اور ابن المدینی نے اسے اس کی اعمش سے روایت میں ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ ان میں سے نہیں۔‘‘ (اور حاشیے میں اس طرح تبصرہ کیا ہے: ’’میں نے کہا: اگر وہ یعنی ابن المدینی کی اس کے لیے تضعیف کی وجہ سے یہ روایت جس کا الکدیمی کے طریق سے ذہبی کے حوالے سے ذکر ہوچکا، اس سے استدلال کرنا جائز نہیں، کیونکہ الکدیمی کا نام محمد بن یونس ہے اور متروک راوی ہے جیسا کہ ’’المیزان‘‘ میں ہے، بلکہ ان میں سے بعض نے اس کی تکذیب کی ہے۔) اور سیوطی نے فرمایا، جسے المناوی نے نقل کیا: ’’حدیث ثابت ہے، وہ ابوزرعہ اور اس کی متابعت کرنے والوں کی رائے پر صحیح ہے اور ابن عدی کی رائے سے حسن ہے۔‘‘ اور اسی وجہ سے انہوں نے ’’الجامع‘‘ میں اس کے لیے حسن کا اشارہ دیا ہے، اور مناوی نے اس کی علمی گرفت کی ہے جسے اس نے ذہبی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ’’المہذب علی البیہقی‘‘ (۲/۸۶۷، رقم ۳۸۱۵، ۳۸۱۶) میں بیان کیا: ’’میں نے کہا: یہ خبر منکر ہے، اس میں عبد الرحمن بن مغراء کا تفرد ہے، اور وہ حجت نہیں۔‘‘ میں نے کہا: حق بات یہ ہے کہ وہ حدیث حسن ہے، اس پر منکر کا حکم غیر واضح ہے، ذہبی نے بذات خود ابن مغراء کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ابھی بیان گزرا ہے، اس قول سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس روایت میں اس کا تفرد ہو وہ روایت حسن ہوتی ہے اور مطلق طور پر یہ کہنا کہ وہ قابل اعتماد ہی نہیں تو یہ اس کے خلاف ہے جو ’’المیزان‘‘ میں ہے، اور جب کہا جائے: وہ قابل اعتماد نہیں جب وہ مخالفت کرے تو وہ حق ہے، اور یہاں اس نے مخالفت نہیں کی، لہٰذا اس کی حدیث حسن ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ اس کے علاوہ کہ مساجد میں بدعتِ محاریب سے ممانعت پر اس حدیث سے استدلال (جیسا کہ السیوطی نے سمجھا جیسے المناوی نے ان سے صراحت کے ساتھ نقل کیا اور ان کا کلام سابق اس کی طرف اشارہ کرتا ہے) ظاہر نہیں، اگرچہ بیہقی نے اس کی طرف اس سے سبقت کی ہے جب انہوں نے اس حدیث کو ’’باب فی کیفیۃ بناء المساجد‘‘ میں نقل کیا ہے، مناوی نے سیوطی کے اس کلام پر، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، علمی گرفت کرتے ہوئے کہا: ’’میں کہتا ہوں: یہ ان کی طرف سے اس پر بنا ہے جو انہوں نے حدیث کے لفظ سے سمجھا ہے کہ ان کی محراب سے وہی مراد ہے جو اب مسجد میں متعارف ہے اور نہ اس طرح، کیونکہ ابن الاثیر نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں محاریب سے مراد صدور المجالس ہے، انہوں نے کہا: اسی سے حدیث انس ہے: وہ محاریب کو ناپسند فرماتے تھے یعنی: انہیں پسند نہ تھا کہ وہ صدور مجالس میں بیٹھیں اور لوگوں سے بلند ہوجائیں۔‘‘ میں نے کہا: اور اس میں کہ ابن الاثیر نے اس کی تصریح نہیں کی جسے المناوی نے ذکر کیا ہے، کیونکہ نہایہ میں ان کے کلام کی نص: ’’المحراب‘‘ وہ بلند اونچی جگہ ہے اور وہ صدر المجلس ہے، اور اسی سے محراب المسجد نام رکھا گیا، اور وہ: اس (مسجد) میں سامنے اور اونچی جگہ ہے، اور اسی سے حدیث انس … ان کے کلام کے آخر تک جسے المناوی نے نقل کیا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کے ذکر کو مطلق نہیں چھیڑا جس کے سلسلے میں ہم ہیں، المناوی کس طرح کہتے ہیں: ’’انہوں نے صراحت کی ہے کہ حدیث میں محاریب سے مراد صدور المجالس ہے۔‘‘ انہوں نے صرف یہ صراحت کی کہ انس کی روایت میں محاریب سے یہی مراد ہے جسے انہوں نے یعنی: ابن الاثیر نے خو دنقل کیا ہے اور یہ مخفی نہیں کہ انس کی روایت میں اس لفظ (المحاریب) کے ورود سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ صدور المجالس کے معنی میں ہے، یہ کہ یہ معنی ہر اس حدیث سے مراد ہو جس میں یہ لفظ وارد ہے اور انہی میں سے یہ حدیث ہے۔ لیکن وہ جو میرے نزدیک راجح ہے وہ دونوں حدیثوں کا ایک معنی میں ہونا ہے: اور وہ باب کی روایت میں اسم اشارہ کا ورود ہے: ’’ہذہ المذابح۔ یعنی المحاریب۔‘‘ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس کی طرف اشارہ ہے۔ وہ محاریب ہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھے، اس اثنا میں کہ مساجد کے محاریب اس اصطلاحی معنی میں جو اس کا متقاضی ہے، وہ سیوطی کے اعتراف کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ لگے تھے تو اس حدیث کو تب اس پر محمول کرنا کس طرح جائز ہے، جبکہ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے اور وہ غیر موجود ہے؟ پس یقین ہوا کہ اس حدیث میں محاریب سے مراد صدور المجالس ہے، جیسا کہ وہ انس کی روایت میں مراد ہے، واللہ اعلم۔ یہ جو کہ روایت کیا گیا ہے جو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مساجد میں محاریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں معروف نہ تھے، طبرانی نے ’’الاوسط‘‘ اور ’’الکبیر‘‘ میں جابر بن اسامہ الجہنی سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے اصحاب کی موجودگی میں بازار میں ملاقات کی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری قوم کے لیے ایک مسجد کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے بیان کیا: میں آیا، آپ نے ان کے لیے مسجد کی نشان دہی کی اور آپ نے اس کے قبلہ میں ایک لکڑی گاڑ دی اور اسے قبلہ کے طور پر قائم کردیا۔ انہوں نے ’’المجمع‘‘ (۲/۱۵) میں بیان کیا: ’’اس میں معاویہ بن عبد اللہ بن حبیب ہے، میں نے اس کے سوانح سے نہیں پایا۔‘‘ (اور ’معاویہ‘، ’’معاذ‘‘ سے محرف ہے اور ’’حبیب‘‘ اصل میں ’’خبیب‘‘ ہے! جیسا کہ اس نقطہ پر شیخ البانی رحمہ اللہ کے کلام کے آخر پر آئے گا۔) اور مجھے یاد ہے کہ بعض علماء جو مسجد میں محراب کے جواز کا موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اس کے فوائد میں سے ہے کہ وہ قبلے کی جہت پر دلالت کرتا ہے، ہم کہتے ہیں: اس کی تو تب ضرورت ہوگی جب مسجد میں منبر نہ ہو، کیونکہ وہ بھی تو قبلے کی سمت پر دلالت کرتا ہے، اس کے علاوہ اگر مسجد میں جہاں منبر نہ ہو اور علامت کی ضرورت ہو تو پھر وہاں کوئی لکڑی رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں جو قبلہ پر دلالت کرتی ہو جیسا کہ اس حدیث میں ہے، یہ ان محاریب سے بہتر ہے جن کے بنانے میں نصاریٰ سے مشابہت ہے۔ بزار رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے محراب میں نماز پڑھنا ناپسند کیا ہے اور انہوں نے کہا: وہ تو گرجا گھروں کے ہوتے تھے۔ پس تم اہل کتاب سے مشابہت نہ کرو، یعنی: انہوں نے محراب میں نماز پڑھنا ناپسند کیا ہے۔ انہوں نے ’’المجمع‘‘ میں بیان کیا: ’’اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔‘‘ میں نے کہا: سعید بن منصور نے بھی اسے ان الفاظ سے روایت کیا ہے کہ وہ محراب میں نماز پڑھنا ناپسند کرتے تھے اور انہوں نے کہا: وہ (محراب) گرجا گھروں کا حصہ ہیں لہٰذا تم اہل کتاب سے مشابہت اختیار نہ کرو۔ عبید بن ابی الجعد سے مروی ہے، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہا کرتے تھے: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ مساجد میں محراب بنالیے جائیں۔ اسے اور اس سے پہلی روایت کو شیخ الاسلام نے ’’الاقتضاء‘‘ (ص۶۳) میں نقل کیا ہے۔ اس اثر (خبر) سے یہ چیز نظر آتی ہے کہ انہوں نے مسجد کے مذابح کی ’’طاقات‘‘ سے تفسیر کی ہے، جن کا اصطلاحی مفہوم محاریب ہیں، جس طرح حدیث میں مذابح کی محاریب سے تفسیر کی گئی ہے، جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ’’طاقات‘‘ (محاریب) ہیں اور امام سیوطی نے جو حدیث سے سمجھا ہے یہ اسے تقویت پہنچاتا ہے، اگر اس میں اسم اشارہ نہ ہو۔ جو کچھ بیان ہوا اس کے بعد اگر مزید تحقیق و تدقیق کی ضرورت ہو تو جس کے پاس اس کے متعلق کوئی چیز ہو وہ لکھے،اور اللہ نیک عمل کرنے والے کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا۔ ابن حزم (۴/۲۳۹) نے مساجد میں محاریب کی کراہت کی صراحت کی ہے اور انہوں نے فرمایا: ’’اور ہم نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا کہ وہ مسجد میں محراب کو ناپسند فرماتے تھے، اور ابراہیم نخعی سے۔‘‘ شیخ نے ابراہیم نخعی کے اثر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: یہ کہ وہ امام کے محراب میں نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ سفیان ثوری نے فرمایا: ’’اور ہم اسے ناپسند کرتے ہیں۔‘‘ اسی لیے شیخ علی قاری نے ’’المرقاۃ‘‘ (۱/۴۷۳) میں انس کی روایت: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے (کی سمت) میں ریزش دیکھی۔‘‘ کی شرح میں فرمایا: ’’یعنی: مسجد کی وہ دیوار جو قبلہ کی جانب تھی اور اس سے وہ محراب مراد نہیں جسے لوگ قبلہ کا نام دیتے ہیں، کیونکہ محاریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے نئے امور میں سے ہیں، اسی لیے تمام سلف نے انھیں بنانا اور ان میں نماز پڑھنا ناپسند کیا ہے۔ قضاعی نے بیان کیا: سب سے پہلے عمر بن عبد العزیز نے اسے شروع کیا، وہ ان دنوں ولید بن عبد الملک کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، یہ انہوں نے اس وقت کیا جب انہوں نے نبی کی مسجد کی بنیاد رکھی، اس کی خدمت کی اور اس میں اضافہ کیا اور مسجد میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو محراب کا نام دے دیا گیا، کیونکہ وہ مسجد کی مجالس (نشستوں) میں سے سب سے اونچا ہوتا ہے، اسی سے محل کو محراب کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ سب سے اونچی عمارت ہوتی ہے، اور کہا گیا ہے: محراب، بادشاہ کی نشست ہے، اسے اس میں اس کے منفرد ہونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا، اور اسی طرح محراب مسجد ہے، کیونکہ وہ اس میں منفرد ہوتا ہے، اور یوں بھی کہا گیا: اس کا اس لیے یہ نام رکھا گیا، کیونکہ نمازی اس میں شیطان سے لڑائی کرتا ہے۔‘‘ اور رہا وہ جو ’’عون المعبود شرح ابی داؤد‘‘ میں ہے: جو القاری نے کہا کہ محاریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے محدثات میں سے ہے، یہ قابل غور ہے! کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں محراب کا وجود بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے۔ بیہقی نے وائل بن حجر کے حوالے سے ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں روایت کیا، انہوں نے کہا: ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اٹھ کر مسجد کی طرف گئے اور محراب میں داخل ہوگئے، پھر آپ نے تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھائے۔‘‘ شیخ عبد الحی الکتانی نے اسے ’’التراتیب الإداریۃ‘‘ (۱/۶۳۔۶۴) میں نقل کیا اور اسے تسلیم کیا: میں نے کہا: اس تعقیب و اقرار کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ حدیث مذکور انتہائی ضعیف ہے، کیونکہ بیہقی (۲/۳۰) نے اسے محمد بن حجر حضرمی کے طریق سے نقل کیا ہے: حدثنا سعید بن عبد الجبار بن وائل عن ابیہ، عن امہ، عن وائل، اس سند میں تین علّتیں ہیں: اس کے بعض راویوں کا ضعف، انقطاع اور اس کے متن میں شذوذ۔ رہی پہلی علت: تو وہ محمد بن حجر حضرمی ہے۔ ذہبی نے ’’المیزان‘‘ میں کہا: ’’ اس کی منکر روایات ہیں اور بخاری نے فرمایا: اس میں کچھ نظر ہے۔‘‘ اور حافظ رحمہ اللہ نے اسے ’’اللسان‘‘ میں تسلیم کیا، اور برقرار رکھا ہے اور ابواحمد الحاکم سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: ’’وہ ان کے ہاں قوی نہیں۔‘‘ میں نے کہا: اور اس کا شیخ سعید بن عبد الجبار بھی ضعیف ہے، جیسا کہ ’’التقریب‘‘ میں ہے۔ رہی دوسری علت: وہ یہ کہ عبد الجبار بن وائل کے بارے میں معروف نہیں کہ اس نے اپنی والدہ سے سنا ہے اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے اپنے والدین سے نہیں سنا جیسا کہ ’’التہذیب‘‘ میں ہے۔ اور رہی تیسری علت: وائل رضی اللہ عنہ کی روایت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت و طریقے سے متعلق ہے، وہ صحیح مسلم، ’’السنن‘‘ اور ’’مسانید‘‘ وغیرہ میں بہت سے طرق سے مختلف الفاظ سے آئی ہے، لیکن ان میں سے کسی میں بھی محراب کا ذکر نہیں، بس اس ضعیف روایت میں ہے، پس وہ اس کے شذوذ، بلکہ منکر ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اس روایت کے، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، الطرق ’’البیہقی‘‘ (۲/۲۴، ۲۵، ۲۶، ۲۸، ۳۰، ۵۷، ۵۸، ۷۲، ۸۱، ۹۸، ۹۹، ۱۱۱، ۱۱۲، ۱۳۱، ۱۳۲، ۱۷۸) میں دیکھیں۔.