کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 458
پڑھی، پھر صاحبِ مسجد سے کہا: میں نے تمہاری مسجد میں یہ کچھ دیکھا ہے۔ یعنی: بالکونیاں وہ انصاب جاہلیت کے مشابہ ہیں، لہٰذا حکم دو کہ انھیں توڑ دیا جائے۔
میں نے اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب ’’اقتضاء الصراط المستقیم مخالفۃ أصحاب الجحیم‘‘ (ص۶۳) سے نقل کیا ہے۔
اور یہ سند صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ اس اسماعیل کے علاوہ باقی ثقہ ہے جیسا کہ ’’التقریب‘‘ میں ہے۔
اور ابن القاسم کی ’’المدونۃ‘‘ (۱/۱۰۹) میں ہے:
’’انہوں نے کہا: میں نے مالک سے سنا اور انہوں نے مدینے کی مسجد اور اس کے قبلہ کی سمت جو تزئین کی گئی تھی اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: جس وقت انہوں نے یہ کیا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا۔ یہ لوگوں کو ان کی نماز میں مشغول کردیتا ہے، وہ اس کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ انھیں غافل کردیتا ہے۔‘‘
اسی لیے بہت سے علماء نے ان مساجد میں نماز پڑھنا مکروہ قرار دیا ہے جن کی تزئین کی گئی ہو اور وہ مزین ہوں۔[1]
۸: مسجد میں محراب
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے محراب کے مسئلے، اس کی مشروعیت کی حد اور اس کے مساجد میں وجود کے متعلق بحث کی ہے، آپ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/۶۴۱۔۶۴۳) کی حدیث رقم (۴۴۸)[2] کے تحت اس کے بعد کہ انہوں نے اس پر ضعف کا حکم لگایا، فرمایا:
فائدہ:… مذابح سے محاریب مراد ہیں، جیسا کہ ’’لسان العرب‘‘ وغیرہ میں ہے، اور جیسا کہ ابن عمرو کی مرفوع روایت میں ان الفاظ کے ساتھ وضاحت شدہ بیان ہوا ہے: ’’اتَّقُوْا ہٰذِہِ الْمَذَابِحَ‘‘
’’ان محاریب سے بچو۔‘‘
بیہقی نے (۲/۴۳۹) اور دیگر نے اسے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور سیوطی نے اپنے رسالے [3] (ص۲۱) میں فرمایا: ’’حدیث ثابت ہے۔‘‘
اور انہوں نے اس سے مساجد میں محاریب بنانے سے ممانعت پر استدلال کیا ہے، اور یہ محل نظر ہے، میں نے
[1] پھر ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے مزین اور نقش نگار والی مساجد میں نماز کی کراہت کے متعلق علماء کے اقوال ذکر کیے ہیں۔ دیکھیں: ’’الثمر‘‘ (۱/۴۷۰۔۴۷۱).
[2] وہ یہ ہے: ’’یہ امت خیر و بھلائی پر رہے گی جب تک وہ اپنی مساجد میں نصاریٰ کے مذابح کی طرح مذابح (محراب) نہیں بنائیں گے۔‘‘.
[3] یعنی: ان کے رسالے کا نام ہے: ’’إعلام الأریب بحدوث بدعۃ المحاریب‘‘.