کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 445
ابن الصلاح رحمہ اللہ نے ’’المساجلۃ‘‘ (ص۱۸) میں بیان کیا: ’’…کتنی ہی مقبول نمازیں ہیں جو اس خاص وصف پر مشتمل ہیں جن کے وصف کے متعلق کتاب و سنت سے کوئی خاص نص وارد نہ ہو، پھر یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ بدعت ہے، اگر کوئی کہے کہ یہ بدعت ہے، تو وہ اس کے ساتھ بدعت حسنہ کہے، اس لیے کہ وہ قرآن یا سنت سے اصل کی طرف لوٹتی ہے۔‘‘ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المساجلۃ‘‘ (ص۱۸) کے حاشیے میں ابن الصلاح کے سابق کلام پر ردّ کرتے ہوئے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ وہ بدعت گمراہی ہے، کیونکہ وہ عبادت میں ہے اور جو بھی بدعات اس قبیل سے ہوں گی تو وہ سب گمراہی ہیں۔‘‘ اور انہوں نے ایک رسالے ’’الصراط المستقیم‘‘ (ص۷۔۸) پر اپنی تعلیق میں اس کلام کے بعد فرمایا کہ نصف شعبان کی شب کے بارے میں وارد تمام روایات بناوٹی، باطل اور موضوع ہیں، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ نصف شعبان کی شب کے بارے میں ایک حدیث صحیح ہے،[1] انہوں نے فرمایا: اس سے (میری مراد) اس کی فضیلت کے ثبوت سے لازم نہیں آتا کہ اسے ایک خاص نماز اور ایک خاص ہیئت کے ساتھ مخصوص کرلیا جائے جس کے ساتھ الشارع الحکیم نے اسے مخصوص نہیں کیا، بلکہ وہ سب بدعت ہے اس سے اجتناب کرنا اور جس پر صحابہ اور سلف صالحین رضی اللہ عنہم ہیں ان سے وابستگی اختیار کرنا واجب ہے۔ اللہ اس پر رحم فرمائے جس نے یہ کہا: وکُلُّ خیرٍ فی اتباع مَن سَلَف وکل شرٍ فی ابتداع مَنْ خَلَفَ ’’سلف کی اتباع میں خیر ہی خیر ہے اور خلف کی (بدعت سازی) میں شر ہی شر ہے۔‘‘ اسی لیے مؤلف [2] نے بہت اچھا کیا جس وقت اس نے کہا: ’’انسان کا شب بیداری کرنا…‘‘ ان کا یہاں
[1] اسے ’’سلسلۃ صحیحۃ‘‘ (۱۱۴۴) میں دیکھیں، میں نے اسے طوالت کے ساتھ ’’المجالسۃ‘‘ (۳/۳۰۳) رقم (۹۴۴) کے تحت نقل کیا ہے اور میں نے اپنے رسالے ’’حسن البیان فی لیلۃ النصف فی من شعبان‘‘ میں اس پر اضافہ نقل کیا ہے اور میں نے اس کے مقدمے میں نصف شعبان کی شب کی بدعت واضح کی ہے. نوٹ: علامہ البانی نے جس روایت کو صحیح کہا ہے وہ بھی اکثر محدثین، شارحین حدیث اور محققین کے نزدیک صحیح نہیں، یہ علامہ البانی رحمہ اللہ کا تسامح نیز اس سے کسی خاص عمل کا ثبوت نہیں ملتا۔ (شہباز حسن). [2] ازہر کے علماء کی ایک جماعت نے اسے مرتب کیا ہے اور ہمارے سلفی شیخ محمد نسیب الرفاعی رحمہ اللہ نے اسے جمعیۃ الدعوۃ المحمدیۃ حلب کی طرف سے ۱۳۷۲ھ میں شائع کیا.