کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 437
۴… نماز سے سلام پھیر کر سہو کے علاوہ سجدے کرنا
’’الباعث علی إنکار البدع والحوادث (ص۴۲)، الإقتضاء‘‘ لإبن تیمیۃ (ص۱۴۰)، ’’حاشیۃ ابن عابدین‘‘ (۱/۷۳۱)۔
ہمارے شیخ نے ’’الرد علی التعقیب الحثیث‘‘ (ص۴۹) میں اسے بیان کیا۔
۵… ہر نماز کے بعد : ’’یا ارحم الراحمین…‘‘ کہنا
ہمارے شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۲/۱۸۲) میں بیان کیا:
گویا کہ یہ ضعیف حدیث وہ اصل ہے جسے اردن کے شہر عمان وغیرہ میں بہت سے نمازیوں نے ہر نماز کے بعد تین بار ’’یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ‘‘ کہنا معمول بنالیا ہے، اس کی سنت صحیحہ میں کوئی اصل نہیں۔ بلکہ وہ تو بہت سی صحیح سنتوں کو ضائع کردینے والا ہے جس کا ان میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ سلف میں سے جس نے کہا، سچ کہا: جب کوئی بدعت ایجاد ہوتی ہے تو کوئی سنت مٹا دی جاتی ہے۔
۶… نمازوں کے بعد مصافحہ
’’حاشیۃ ابن عابدین‘‘ (۵/۳۶۶)، ’’المدخل‘‘ (۲/۲۱۹)، ’’الرد علی التعقیب الحثیث‘‘ (ص۴۹)۔
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’ الصحیحۃ‘‘ (۱/۵۳) میں فرمایا:
نمازوں کے بعد مصافحہ بدعت ہے، اس میں کوئی شک نہیں،[1] مگر یہ کہ وہ ان دو افراد کے درمیان ہو جو اس سے پہلے نہ ملے ہوں تو پھر سنت ہے۔
۷… سنت [2] کے بعد اللہ کا ذکر کرنا جبکہ فرض کے بعد نہ کرنا جب کہ اس کے متعلق صحیح احادیث آئی ہیں
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۱/۲۱۱) میں حدیث رقم (۱۰۲) کے تحت بیان کیا، اور اس کی نص یہ ہے:
’’باری باری پڑھی جانے والی تسبیحات کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا ناکام و نامراد نہیں ہوتا …‘‘
میں نے کہا:
[1] علماء کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے، ان میں سے عز بن عبد السلام ہیں۔ ان کا کلام ہم اپنے ’تسدید الاصابۃ‘ کے چوتھے مقالے میں پیش کریں گے۔ (منہ).
[2] یعنی سنت نماز.